جولائی دو ہزار سات میں ’ایک لیپ ٹاپ فی بچہ‘ نامی منصوبہ کے تحت بنے لیپ ٹاپ کی پہلی کھیپ صارفین کے پاس پہنچنے کا امکان ہے۔ اس سکیم کے تحت توقع کی جا رہی ہے کہ کم قیمت کمپیوٹر ترقی پذیر ممالک کے لوگوں تک پہنچائے جا سکیں گے۔
پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جس نے 'ایک لیپ ٹاپ فی بچہ' منصوبے کے تحت بنے سستے لیپ ٹاپ خریدنے کا معاہدہ کیا ہے۔ معاہدہ کرنے والے دیگر ممالک میں برازیل، ارجنٹینا، یوروگوائے، نائجیریا، لیبیا اور تھائی لینڈ بھی شامل ہیں۔
ایکس او کہلانے والے یہ لیپ ٹاپ نکولس نیگرو پونٹے نے متعارف کروائے ہیں جنہوں نے مذکورہ منصوبے کو سن دو ہزار چار میں امریکہ کے معروف تعلیمی ادارے ایم آئی ٹی کی ٹیکنالوجی لیب میں پیش کیا تھا۔
خیال ہے کہ ٹیسٹ مشینیں فروری میں بچوں تک پہنچنا شروع ہو جائیں گی جو منصوبے کے باقاعدہ آغاز کی طرف ایک قدم ہے۔
خبر رساں ادارے اے پی نے نیگروپونٹے سے ایک بیان منسوب کیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ’مجھے ہنسی آتی ہے جب لوگ ایکس او کو بیکار مشین کہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بچوں کو اصل مشین ملنی چاہیے، میری بات کا یقین کریں عنقریب میں بھی اپنی اصل مشین کے بدلے ایکس او لینا چاہوں گا۔ یہ کئی لحاظ سے بہت بہتر مشین ثابت ہوگی‘۔