[center]اپنا گریباں[/center]
سلمان اپنے گاؤں سے شہر تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے آیا تھا شہر کے کالج میں تعلیم حاصل کرتے ہوئے اُسے تقریباً پانچ سال کا عرصہ ہو چکا تھا۔ ان پانچ سالوں میں وہ اسکی ہم جماعت غزالہ کی محبت میں بھی گرفتار ہو اتھا۔ اب وہ غزالہ کو کسی طرح اپنے سے دور نہیں دیکھنا چاہتا تھا ، سلٰمی بھی اُسے چاہنے لگی تھی۔
ایک دن جب سلٰمی نے اپنی امّی سے یہ خواہش ظاہر کی کہ وہ سلمان سے ہی شادی کرنا چاہتی ہے تو اسکے والدین آگ بگولہ ہوگئے اور انھوں نے اسکی خواہش کو ٹھکرادیا۔والدین کے انکار کے بعد سلمان نے سلٰمی کو چپ چاپ شہر چھوڑ کر کسی دوسرے شہر اسکے ہمراہ چلنے کے لئے راضی کر لیا۔
اب سلمان اپنے کمرے میں بکھرے سامان کو سمیٹ رہا تھا انھیں آج رات ایک بجے آنے والی ٹرین سے شہر چھوڑ نا تھا۔
ابھی وہ اپنے سامان کی پیکنگ کر ہی رہا تھا کہ اسکے مبائل کی میوزک بج اٹھی ۔ مبائل پر آیا فون نمبر اسکے گھر کے پڑوس کا تھا ۔ اُس نے مبائل اپنے کانوں سے لگا لیا۔ اسکے والد درد بھری آواز میں اس سے کہہ رہے تھے۔
’’ بیٹا تمہاری بہن شہر سے آئے ایک نوجوان کے ساتھ پتہ نہیں کہاں چلی گئی ہے تم فوراً چلے آؤ خاندان کی آبرو خطرے میں ہے۔!!‘‘
سلمان اپنے گاؤں سے شہر تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے آیا تھا شہر کے کالج میں تعلیم حاصل کرتے ہوئے اُسے تقریباً پانچ سال کا عرصہ ہو چکا تھا۔ ان پانچ سالوں میں وہ اسکی ہم جماعت غزالہ کی محبت میں بھی گرفتار ہو اتھا۔ اب وہ غزالہ کو کسی طرح اپنے سے دور نہیں دیکھنا چاہتا تھا ، سلٰمی بھی اُسے چاہنے لگی تھی۔
ایک دن جب سلٰمی نے اپنی امّی سے یہ خواہش ظاہر کی کہ وہ سلمان سے ہی شادی کرنا چاہتی ہے تو اسکے والدین آگ بگولہ ہوگئے اور انھوں نے اسکی خواہش کو ٹھکرادیا۔والدین کے انکار کے بعد سلمان نے سلٰمی کو چپ چاپ شہر چھوڑ کر کسی دوسرے شہر اسکے ہمراہ چلنے کے لئے راضی کر لیا۔
اب سلمان اپنے کمرے میں بکھرے سامان کو سمیٹ رہا تھا انھیں آج رات ایک بجے آنے والی ٹرین سے شہر چھوڑ نا تھا۔
ابھی وہ اپنے سامان کی پیکنگ کر ہی رہا تھا کہ اسکے مبائل کی میوزک بج اٹھی ۔ مبائل پر آیا فون نمبر اسکے گھر کے پڑوس کا تھا ۔ اُس نے مبائل اپنے کانوں سے لگا لیا۔ اسکے والد درد بھری آواز میں اس سے کہہ رہے تھے۔
’’ بیٹا تمہاری بہن شہر سے آئے ایک نوجوان کے ساتھ پتہ نہیں کہاں چلی گئی ہے تم فوراً چلے آؤ خاندان کی آبرو خطرے میں ہے۔!!‘‘