
یہ انگوٹھیاں جی پی ایس سے منسلک ہوں گی برطانیہ میں سمت بتانے والے آلے جی پی ایس سے لیس دو انگوٹھیوں کی نمائش کی گئی ہے جو پہننے والے کی رہنمائی کر سکیں گے۔ یہ انگوٹھیاں بنانے والے برطانوی ڈیزائنر گیل نائٹ کا کہنا تھا کہ انہیں ڈیزائن کرنے کا مقصد یہ ہے کہ خواتین شہر کے ان حصوں میں بھی خود کو محفوظ محسوس کر سکیں جن سے وہ واقف نہ ہوں۔بی بی سی کے پروگرام ’کلچر شاک‘ میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا: ’ میں تسلیم کرتا ہوں کہ انگوٹھی میں جڑا ہوا جی پی ایس (global posioning satellite) خواتین کے لیے زیادہ پر کشش ہو گا۔‘
گیل نائٹ کا کہنا تھا کہ وہ کئی دیگر ڈیزائنرز کے برعکس خطرے کی صورت میں استعمال کیا جانے والا الارم نہیں بنانا چاہتے تھے کیونکہ اس قسم کے الارم خواتین استعمال نہیں کرتیں۔’میرا مقصد یہ تھا کہ ایسی چیز بنائی جائے جسے پاس رکھ کر خواتین زیادہ محفوظ اور پُراعتماد محسوس کریں۔‘ ان انگوٹھیوں میں پہننے والے کی رہنمائی الارم کی بجائے ایک تھر تھراہٹ سے ہو گی۔
جی پی ایس نظام کے تمام آلات ایک انگوٹھی میں فِٹ نہیں کیے جا سکتے اس لیے اس ڈیزائن میں انگوٹھیوں کے ساتھ دوسرے آلات گلے کے گرد لٹکائے جائیں گے یا لباس پر لگائے جانے والے کِلپ کی صورت میں ہوں گے۔

یہ خیال خوش آئند ہے کہ جی پی ایس والی یہ انگوٹھیاں ٹوکیو جیسے شہر میں رہنمائی کر سکیں گیجی پی ایس کو کنٹرول کرنے والا سیٹ کا اہم حصہ ایک چھوٹی سکرین کی شکل میں مہیا کیا جا رہا ہے جس پر استعمال کنندہ زیادہ سے آٹھ ہندسے یا انگریزی حروف تہجی ٹائپ کر سکتا ہے۔ واضح رہے کہ برطانیہ میں کسی گھر یا گلی کا پتہ حروف تہجی اور ہندسوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔
اگلے مرحلے میں جی پی ایس اس پتے کو پڑھ کر انگوٹھی میں تھر تھراہٹ پیدا کرتا ہے جس سے استعمال کنندہ کو معلوم ہو جاتا ہے کہ کس گلی میں کھڑا ہے اور اس کا مطلوبہ گھر یا گلی کس جانب ہے۔
دائیں یا بائیں مڑنے کی ہدایت دینے کے لیے انگوٹھی سے آواز نکلتی ہے اور آگے یا پیچھے جانے کے لیے دو مختلف قسموں کی تھر تھراہٹ پیدا ہوتی ہے۔
بڑے شہروں کے رہائشیوں کے لیے نیٹ ورک آلات سے متعلق ایک تنظیم کے چیئرمین فلپ ڈاڈ نے انگوٹھیوں والے جی پی ایس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی ٹیکنالوجی کا مستقبل روشن ہے۔
ان کا کہنا تھا: ’ میں گزشتہ دنوں ٹوکیو گیا ہوا تھا۔ وہاں سڑکوں اورگلیوں میں اشارات نہیں لگے ہوئے اور اگر ہیں تو وہ جاپانی زبان میں ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ میں جب زیر زمین ٹرین سے باہر نکل کر گلی میں پہنچتا ہوں تو مجھے کچھ پتہ نہیں چلتا کہ میں کہاں کھڑا ہوں۔ اس لیے میرا خیال ہے کہ اس قسم کے آلات کے استعمال سے دنیا کے مخلف ممالک میں سیر کے لیے جانے والوں کو بہت فائدہ ہوگا۔‘