



وکلاء کی گرفتاریوں کے لیے چھاپے عباس نقوی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

وکلاء برادری نے چیف جسٹس کی بحالی کے لیے ملک بھر میں مؤثر تحریک چلائی تھی ملک کے دیگر حِصوں کی طرح کراچی میں بھی ایمرجنسی کے خلاف وکلاء کی احتجاجی تحریک کو روکنے کے لیے سرکاری مشینری حرکت میں آگئی اور پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے رات بھر وکلاء کے گھروں پر چھاپے مارے اور تحریک میں سرگرم وکلاء کے نہ ملنے پر اُن کے رشتے داروں کو گرفتار کر لیا۔
وکلاء کا احتجاجی تحریک کا اعلانکراچی پولیس کے سربراہ نے گرفتاریوں کے بارے میں معلوم کرنے پر کہا کہ میں صرف کراچی کے موسم کی صورتحال پر رائے دے سکتا ہوں۔ سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور کراچی بار سے تعلق رکھنے والے وکلاء کی گرفتاریوں کے لیے کراچی پولیس سرگرم ہوگئی ۔
پولیس موقف
’میں صرف کراچی کے موسم کی صورتحال پر بات کرسکتا ہوں کہ آج کراچی میں گرمی ہے یا دھوپ ہے
کیپیٹل سٹی پولیس چیف اظہر علی فاروقی حکومت کے ممکنہ ردعمل کے پیشِ نظر بیشتر وکلاء پہلے ہی زیرِ زمین چلے گئے تھے جس کے باعث پولیس اُنہیں گرفتار کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔سندھ ہائی کورٹ بار کے صدر نے کہا کہ پولیس نے پہلا چھاپہ اتوار کو علی الصبح مارا اور دھمکی دی کہ گھر میں موجود تمام مرد باہر آجائیں ورنہ پولیس دروازے توڑ کر گھر میں داخل ہوجائے گی، جس پر ابرار حسن کے داماد باہر آگئے جنہیں پولیس نے حراست میں لے لیا اور کئی گھنٹوں کے بعد اس شرط پر رہا کیا کہ صبح نو بجے تک اگر ابرار حسن نے گرفتاری نہیں دی تو اُنہیں دوبارہ گرفتار کر لیا جائے گا۔ابرار حسن کا کہنا ہے کہ ’اتوار کی صبح پولیس نے میرے گھر پر دوسرا چھاپہ مارا اور ایک بار پھر میرے داماد کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد گرفتار کر لیا‘۔ اُن کا کہنا ہے کہ یہی صورتحال دیگر وکلاء کے گھروں کی ہے جبکہ بیشتر کے گھروں پر پولیس نے محاصرہ کر رکھا ہے۔
ابرار حسن نے کراچی کی ممبر بار کونسل نور ناز آغا کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم لوگ چُھپتے پھر رہے ہیں مگر کب تک پولیس سے بچ سکتے ہیں ایک دن، دو دن یا ممکن ہے اگلے گھنٹے ہی گرفتار کر لیے جائیں، ہم شہر میں رہ رہے ہیں یہاں کوئی کچے کا علاقہ تو ہے نہیں جہاں ڈاکو ہمیں پناہ دے دیں اور پولیس سے بچالیں‘۔
دوسری جانب وکلاء تنظیموں نے سپریم کورٹ کی جانب سے ایمرجنسی اور پی سی او کو غیر قانونی قرار دیئے جانے کے بعد پیر کو عدالتوں میں جمع ہونے اور ججوں کے ساتھ احتجاجی تحریک شروع کرنے کے فیصلے پر ثابت قدمی ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ سندھ ہائی کورٹ بار میں جنرل باڈی اجلاس پیر کو صبح ساڑھے دس بجے منعقد ہوگا۔
کراچی میں وکلاء کے گھروں پر چھاپوں کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے جب کیپیٹل سٹی پولیس چیف اظہر علی فاروقی سے بی بی سی نے رابطہ کیا تو اُنہوں نے کہا ’میں صرف کراچی کے موسم کی صورتحال پر بات کرسکتا ہوں کہ آج کراچی میں گرمی ہے یا دھوپ ہے‘


