http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2..._dead_rza.shtml

بلوچستان سے سابق رکنِ اسمبلی بالاچ مری کے بھائی گزن مری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ نوابزادہ بالاچ مری ایک کارروائی میں ہلاک ہوگئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ انہیں منگل کی رات ایک ساتھی نے اس آپریشن کی اطلاع دی لیکن وہ اپنے دیگر ساتھیوں کی حفاظت کے پیش نظر وہ مقام بتانے سے قاصر ہیں جہاں یہ آپریشن ہوا ہے۔

گزن مری نے یہ بھی بتایا کہ بالاچ مری کی آخری رسومات کے لئے خاندان کے افراد مل کر کوئی فیصلہ کریں گے اور ان کی کوشش ہوگی کہ ایسا نہ ہو جیسا نواب اکبر بگٹی کے وفات کے بعد ان کی آخری رسومات کے ساتھ ہوا تھا۔

اس سے قبل اپنے آپ کو کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کا ترجمان ظاہر کرنے والے بیبرگ بلوچ نے ٹیلیفون پر کہا تھا کہ میر بالاچ مری گزشتہ دنوں ایک کارروائی میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

ایسی اطلاعات بھی ملی ہیں کہ بالاچ مری پاک افغان سرحد کے قریب بلوچستان کے علاقہ نوشکی کے قریب سر لچ کے مقام پر سیکیورٹی فورسز کے ساتھ ایک جھڑپ میں ہلاک ہوئے ہیں۔

سرکاری سطح پر اس واقعہ کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا گیا ہے۔

یاد رہے کچھ عرصہ قبل بھی اسی طرح کی خبر گردش کر رہی تھی کہ نوابزادہ بالاچ مری ایک کارروائی میں ہلاک ہو گئے ہیں لیکن اس وقت کہیں سے اس واقعہ کی تصدیق نہیں ہو سکی تھی جبکہ مری اتحاد کے ترجمان نے اس خبر کی تردید کر دی تھی۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال چھبیس اگست کو نواب اکبر بگٹی کی ڈیرہ بگٹی میں ہلاکت سے پہلے نوابزادہ بالاچ مری کبھی کبھار ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے رابطہ کر لیا کرتے تھے لیکن اس واقعہ کے بعد بالاچ مری نے کسی صحافی سے رابطہ نہیں کیا تھا ہاں یہ ضرور ہوا کہ ان کے نام سے بیانات جاری ہوتے رہے ہیں۔