QUOTE(~Saraj~ @ Nov 23 2007, 09:16 AM) [snapback]2589516[/snapback]
Mola wiski bhi hamri syasat ka ek kirdar rahey heyn aur molana dezal bhi ..
lakin lagta hey Molana Fazul-ur-rehman ke liey koi aur laqab muntazir hey
Achha ye fazlur rehman k walid sahib ka kya naam tha?? zehan se nikal gaya, wo b i assemblies mein reh chukay hain na تمھیں شاید یاد ھو کے نہ یاد ھو۔۔۔۔
اس بارے میں اطہر مسعود کے ایک مضمون کا اقتباس حاضر ھےََِِ۔۔
انیس سو ستر میں
مولانا فضل الرحمان کے والد گرامی مولانا مفتی محمود علیہ الرحمتہ اور اُن کے قریبی ساتھی مولانا غلام غوث ہزاروی‘ جماعت اسلامی کی مخالفت میں پیپلزپارٹی کے ہمنوا تھے جس پر جماعت اسلامی کے حامیوںنے اُن کے نام سے مولانا کا لفظ ہٹا کر ”مسٹر“ کا لفظ جوڑ دیا جواباً پیپلزپارٹی کے ترجمان مولانا کوثر نیازی کے ہفت روزہ نے مولانا مودودیؒ کا سر اُس وقت کی مشہور ایکٹریس نغمہ کی فلم ”انورا“ میں رقص کناں ایک تصویر پر جوڑ کر نیچے کیپشن لگایا ”سُن وے بلوری اَکھاں والیا“ اس پر جماعت اسلامی کے حامی ایک جریدے نے ذوالفقار علی بھٹو کا سر
شراب کے مشہور برانڈ VAT69
کی بوتل پر جوڑ کر بدلہ چکایا۔ یہ سارا سیاسی کھیل تھا اور اسی طرح کھیلا جارہا تھا لیکن 16 دسمبر 1971 ءکو جب حکومت اور فوج کے جھوٹے دعوﺅں کا پول کھلا اور افواج پاکستان
کے ایسٹرن کمان کے ”شیر دل“ کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل امیر عبداللہ نیازی نے اپنا پستول اتار کر بھارتی ایسٹرن کمان کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل جگجیت سنگھ اروڑہ کے حوالے کیا اور ہتھیار ڈالنے کی دستاویز پر دستخط کئے تو شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو جو پارٹی اور نظریات کے تمام تر اختلافات کے باوجود رویا نہ ہو.... کچھ ایسی ہی حالت اب کے ہے۔ ساری کی ساری ۔
۔قوم۔۔رنجیدہ ہے ۔۔!!۔