[right]سب سے پہلے دین پھر پاکستان: مسلم لیگ (ق) نے انتخابی منشورکااعلان کردیا
پاکستان مسلم لیگ(ق) نے ''سب سے پہلے دین پھر پاکستان '' '' جیو اور جینے دو '' اور '' ناامیدوں کیلئے امید '' کے نعروں کے ساتھ اپنے انتخابی منشور کا اعلان کردیا ہے ۔ انتخابی منشور کا اعلان کرتے ہوئے پارٹی کے صدر چوہدری شجاعت حسین نے بتایا کہ انتخابی منشور میں مسلم لیگ نے اخلاقی اقدار پر زور دیا ہے اور منشور کی تیاری میں قائداعظم کے فلسفے کو سامنے رکھا ہے انہوں نے کہا کہ یہ منشور پارٹی کے اندر اور باہر تفصیلی صلاح ومشورے کے بعد تیار کیا گیا ہے۔ یہ کام ہم نے سینیٹر ایس ایم ظفر کی سربراہی میں قائم کی گئی ایک کمیٹی کے سپرد کیا تھا۔ اس سلسلے میں پارٹی کی قیادت اور دوسرے ذرائع سے بھی تجاویز ملیں جن کو ہم نے اس میں شامل کر لیا ہے ۔ پچھلے ایک ہفتے سے ہم اسی سلسلے میں مصروف رہے اور آج میں یہ آپ کی خدمت میں پیش کررہا ہوں۔ انہوںنے کہا کہ ہم نے اپنے منشور کا آغاز قرآن پاک کے حوالوں سے کیا جن کا انسانیت، ہم آہنگی ،برداشت اور تحمل سے تعلق ہے ۔ پھر ہم نے بانی پاکستان قائد اعظم کے حوالے سے شامل کیے ہیں جو پاکستان کے تمام شہریوں کے مساوی حقوق ، میڈیا کی آزادی ، بزنس کا کرداراور خارجہ پالیسی سے متعلق ہے ۔ ہمارے منشور کے ہر حصے کا آغاز قائدا عظم کے متعلقہ حوالے سے ہوتا ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ اور دوسری جماعتوں کے درمیان جو بنیادی فرق پایا جاتا ہے میں یہاں اس کو واضح کرنا چاہتا ہوں اول یہ کہ ہم نے اخلاقی اقدار پر زیادہ زور دیا ہے کیونکہ ہم اس بات پر یقین نہیں رکھتے کہ سیاست کا مقصد صرف کرسی کا حصول ہے۔ جبکہ دوسروں کے لیے کرسی ترجیح ہو سکتی ہے جبکہ ہمارے لیے پاکستان اولین ترجیح ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دوسرافرق یہ ہے کہ ہماری پارٹی کے اندر جمہوریت رواں ہے نہ کہ شخصیت ۔ ہماری جماعت خاندانی یا پارٹی نہیں ہے ۔ میں اور سیکرٹری جنرل دو بار پارٹی انتخابات میں منتخب ہوئے ہیں ۔ ہمارے وجدان کا ذریعہ قائد اعظم اور علامہ اقبال ہیں ۔ چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ ہمارے منشورکاموٹو '' جیو اور جینے دو '' اور'' ناامیدوںکو امید کی نوید '' ہے انہوں نے بتایا کہ پاکستان مسلم لیگ کا ویژن پانچ اصولوں پر ہے ۔ جن پر پاکستان کے مستقبل کا انحصار ہے ان اصولوں میں جمہوریت ، ترقی ، اقتدار کی نچلی سطح پر منتقلی ، تنوع ڈائیورسٹی اور دفاع شامل ہیں۔ مسلم لیگ کے صدر نے مزید بتایا کہ ہمارے منشور کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ ہم نے پاکستانی معاشرے کے مختلف حلقوں سے تعلق رکھنے والے مسائل کے لیے نئے خیالات اور تصورات پیش کیے ۔ ہم مستقبل کے بارے میں پرامید ہیں ۔ا ور انشاء اللہ پاکستان مسلم لیگ کا مستقبل روشن ہے ۔ اور پاکستان کی عوام کی حمایت سے ہم پاکستان کو بہتر بنا سکیں گے۔ چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ کلمہ حق کہنا ہماری پارٹی کا سب سے پہلا منشور ہو گا ۔ ہماری جماعت نے اقتدار میں ہوتے ہوئے حکومت کے کئی اقدامات کی مخالفت کی ۔ انہوں ے کہا کہ ہماری پارٹی نے پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ بحال رکھنے اور عراق میں فوج نہ بھیجنے کے اہم فیصلے کیے ۔ اس موقع پر پارٹی کے سیکرٹری جنرل مشاہد حسین سید نے بتایا کہ منشور کی تیاری میں سورۃ المائدہ اور سورۃ الکافرون سے مدد لی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آج انسانی حقوق کا بین الاقوامی دن منایا جا رہا ہے اس لیے منشور کے اعلان کے لیے ہم نے آج کا دن منتخب کیا۔ انہوں نے منشور کے اہم نکات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ جمہوریت ہماری بنیاد ہے اور پارٹی میں ہم اختلاف رائے کو اہمیت دیتے ہیں ۔ قائداعظم اور علامہ اقبال ہمارے راہنما ہیں اور ہم ان کی تعلیمات سے استفادہ کریں گے انہوں نے کہا کہ پاکستان قائداعظم کی قیادت میں مسلم لیگ کی جمہوری جدوجہد کے نتیجے میں وجود میں آیا تھا لہذا ہم جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ملک میں اور سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوری سیاسی کلچر کو فروغ دینے پر یقین رکھتی ہے اور پارلیمانی جمہوریت کی حمایت کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ کا موقف ہے کہ شفاف اور غیر جانبدار انتخابات کا انعقاد آزاد الیکشن کمیشن کی زیر نگرانی ہونی چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ یہ محسوس کرتی ہے کہ جماعت کے صدر اور سیکرٹری کا عہدہ ایک ہی شخص کے پاس دو سے زائد مرتبہ نہیں ہونا چاہیے اور ہم دونوں نے پہلے ہی میعاد پوری ہونے پر عہدے چھوڑنے کا اعلان کیا ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ کی نظر میں حزب اقتدارار حزب اختلاف جمہوریت کی گاڑی کے دو پہیے ہیں ۔قبائلی علاقہ جات کے حوالے سے مشاہد حسین سید نے بتایا کہ فاٹا پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے اور علاقے کو دہشت گردی اور انتہا پسندی سے پاک کرنے کے لیے جمہوریت اور ترقی کا راستہ اپنایا جانا چاہیے فاٹا میں سیاسی جماعتوں کی نمائندگی سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے میں مدد ملے گی ۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ اپنے ماضی کے ریکارڈ کو سامنے رکھتے ہوئے ملک میں سیاسی انتقام کے بجائے مفاہمت کی روایت کو فروغ دے گی ۔ انہوںنے بتایا کہ مسلم لیگ ملک کی معیشت کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مزید اقدامات کرنے کا ارادہ رکھتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ روزگار کی فراہمی اورزراعت کی ترقی اہمیت کی حامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم مسلم لیگ کی پہلی ترجیح ہو گی ہماری کوشش ہو گی کہ پرائمری تعلیم ملک بھر میں مفت دی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ کے احترام میںقومی کیلنڈر میں اساتذہ کی خدمات کو اجاگر کرنے کے لیے '' اساتذہ کا قومی دن '' شامل کیا جائے گا جبکہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کو خود مختار ادارہ بنایا جائے گا۔ اساتذہ کی ریٹائرمنٹ کی عمر ساٹھ سال سے بڑھا کر پینسٹھ سال کردی جائے گی ملک میں موجود تمام تعلیمی اداروں کو بہتر کیا جائے گا ۔ پرائمری سکول سیکنڈری تک ، سیکنڈری سکول ہائر سیکنڈری اور سکولوں کو کالجوں میں تبدیل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ مدرسے کی تعلیم پر خصوصی توجہ دے گی ۔ ا ور انہیں جدید تعلیم کے لیے تمام ضروری مالی معاونت فراہم کرے گا تاکہ مدرسہ کا طالب علم دین کی تعلیم کے ساتھ سا تھ سکول کی تعلیم سے بھی مستفید ہو سکے ۔انہوں نے کہاکہ ایک خصوصی نیشنل فاونڈیشن کا قیام عمل میں لایا جائے گا جو فنکاروں ، مصنفوں ، شاعروں ، کھلاڑیوں اور صحافیوں کی گروپ لائف اور میڈیکل انشورنس کرے گا ۔ اس طرح معاشرے کے اہم افراد کو معیاری علاج کی رسائی حاصل ہو جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ملک میں صحت کی سہولیات کے لیے موجودہ اداروں کو بڑھانے اور انہیں بہتر کرنے کا ارادہ بھی رکھتی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں سائیکل کلچر کو فروغ دیا جائے تاکہ عام آدمی کو سستی اور آسان ٹرانسپورٹیشن دستیاب ہو سکے ۔ آئندہ سڑکوں کی تعمیر میں سائیکل کی خصوصی لین بھی رکھی جائے گی ۔انہوں نے کہاکہ پینے کے صاف پانی کی ٹاسک فورس قائم کی جائے گی جس کی دمہ داری ہو گی کہ ملک کی اکثریت کو پینے کے صاف پانی تک رسائی حاصل ہے ۔ ایک فوڈ سیفٹی کمیشن قائم کیا جائے گا جو معیاری خوراک عام آدمی تک پہنچانے کے لیے کردار ادا کرے گا ۔ مشاہد حسین نے کہاکہ ہمارے ہاں کبھی صحیح معنوں میں احتساب نہیں ہوا ۔ احتساب بیورو کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا رہا لہذا مسلم لیگ ایک ایسا نیا ادارہ بنائے گی جو تمام لوگوں کا بلا امتیاز احتساب کرے گا ۔ انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ ڈیموں اور آبی ذخائر کی تعمیر میں دلچسپی رکھتی ہے لیکن مشاورت اور اتفاق رائے اس کے بنیادی عنصر ہیں ۔انہوں نے کہاکہ ہاؤسنگ پر خصوصی توجہ دی جائے گی تاکہ ہر آدمی آسان اقساط کے ذریعے اپنا گھر بنا سکے ۔ انہوں نے کہاکہ پرائم منسٹر سیکرٹریٹ کی ڈاؤن سائزنگ بھی ہمارے منشور میں شامل ہے۔ انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ کے منشور کااہم نکتہ یہ بھی ہے کہ مضبوط وفاق کی بجائے صوبے مضبوط کئے جائیں ۔ مضبوط صوبے مضبوط پاکستان کی ضمانت ہوں گے ۔ صوبوں کو ان کے اختیارات اور وسائل دئیے جانے چاہیں ۔ انہوں نے کہاکہ آئین کو صحیح عمل میں نافذ کیا جاناچاہیے جو معاملات صوبوں کے ہیں ان کو واپس دے دئیے جانا چاہیے ۔ سینٹ مضبوط ہوناچاہیے ۔ مسلم لیگ غربت کے خاتمے ، عوام کی فلاح و بہبود کے لیے صوبوں کو خصوصی ہدایت اور ان کی حوصلہ افزائی اور ان کی معاونت کریں گی ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ خواتین کے حقوق ، بزرگ شہریوں کے حقوق ، روزگار کی فراہمی ، قیدیوں کے حقوق ، چائلڈ لیبر ، مزدوروں کے حقوق اور نوجوانوں کے حقوق کے حوالے سے بھی نکات منشور میں شامل کئے گئے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ معذور افراد کے لیے ایک نئی وزارت قائم کی جائے گی ۔ انہوں نے کہاکہ ایک ثقافتی سفیر کا عہدہ عمل میں لایا جارہاہے جو بیرون ملک پاکستان کی ثقافت اور روایات اجاگر کرے گا ۔ انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ آئین میں ترمیم کے ذریعے اوور سیز پاکستانیز کو پارلیمنٹ میں نمائندگی دے گی۔ انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ اقلیتوں کو ملک کا برابر کا شہری تصور کرتی ہے اور ان کے حقوق کا بھی تحفظ کیا جائے گا۔ مشاہد حسین سید نے بتایا کہ مسلم لیگ مضبوط پاکستان کے لیے مضبوط دفاع کی حمایت کرتی ہے اور ایٹمی پروگرام دوہرے معیار کو مسترد کرتی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ایٹمی اثاثوں یا سائنسدانوں تک کسی بیرونی طاقت کی رسائی قابل قبول نہیں ہو گی ۔ انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ دہشت گردی ،انتہا پسندی اور تشدد کے تمام اقسام کو مسترد کرتی ہے ۔ مسلم لیگ روایتی دوست ممالک چین اور جنوبی ایشیا کے دوسرے مممالک کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے کی پالیسی جاری رکھے گی ۔ مشاہد حسین نے بتایا کہ مسلم لیگ کشمیری عوام کا حق خود ارادیت تسلیم کرتی ہے اور اس کا موقف ہے کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل کیاجائے ۔ تاہم اگر کشمیری عوام متفقہ طور پر کسی تیسرے حل پر اتفاق کر لیتے ہیں تو مسلم لیگ اس کی حمایت کریگی ۔ مسلم لیگ کل جماعتی حریت کانفرنس کو مظلوم کشمیری عوام کی نمائندہ جماعت تسلیم کرتی ہے ۔ مسلم لیگ فلسطین ریاست کے قیام کی بھی حمایت کرتی ہے جس کا دارالحکومت یروشلم ہو ۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ کے مطابق عراق جنگ غیر قانونی تھی اور غیر ملکی طاقتوں کو عراق کا قبضہ ختم کر دینا چاہیے ۔ مسلم لیگ افغانستان میں جنگ کابھی حل چاہتی ہے ۔ وہاں پر مزاحمت کا حل مداکرات ہیں ۔ مسلم لیگ ایران کے پر امن ایٹمی توانائی کے حصول کے حق کو بھی تسلیم کرتی ہے اور او آئی سی کی تنظیم نو اور اصلاحات کے حق میں ہے ۔انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ کا موقف ہے کہ وزارت خارجہ کو عوام دوست ہونا چاہیے اور بیرون ملک سفارتی مشن کو پاکستانیوں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا چاہیے ۔ پارٹی منشور کے اعلان کے بعد سوالات کا جواب دیتے ہوئے چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ صدر کے بی ففٹی ایٹ ٹو کے اختیار کا فیصلہ آئندہ پارلیمنٹ کرے گی اور نواز شریف نے انتخابات میں حصہ لینے کا بہت اچھا فیصلہ کیا ہے ۔ مشاہد حسین سید نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جب سیاستدان فوج کے آنے پر مٹھائیاں تقسیم کرنا بند کر دیں گے تو فوج سیاست میں آنا بند کر دے گی۔
[/right]