ريڈيو نے دس بجے شب کے خبر دي عيد کي
عالموں نے رات بھر اس نيوز کي ترديد کي
ريڈيو کہتا تھا سن لو کل ہماري عيد ہے
اور عالم کہتا تھا يہ غیر شرعي عيد ہے
دو دھڑوں ميں بٹ گئے تھے ملک کے سارے عوام
اک طرف مقتدي تھے اک طرف سارے عوام
بيٹا کہتا تھا کہ کل شيطان روزہ رکھے گا
باپ بولا تيرا ابا جان روزہ رکھے گا
بيٹا کہتا تھا ميں سرکاري افسر ہوں جناب
روزہ رکھوں گا تو مجھ سے مانگا جائے گا جواب
باپ يہ کہتا کہ پھر يوں بام پر ايماں کے چڑھ
روزہ بھي رکھ اور روزہ ميں نماز عيد پڑھ
آج کتنا فرق فل اسٹاپ اور کامے ميں تھا
باپ کا روزہ تھا بيٹا عيد کے جامے ميں تھا
اختلاف اس بات پر بھي قوم ميں پايا گيا
چاند خود نکلا تھا يا جبرا نکلوايا گيا تھا
----------------------------------------