ناصبی حضرات اور یہودی
ناصبی حضرات نے پچھلے ساڑھے بارہ سو سالوں میں سیف ابن عمر کذاب کی اس دیومالائی کہانی کا اتنا پروپیگنڈہ کیا کہ یہودیوں نے بھی ناصبی حضرات کو پروپیگنڈہ کرنے میں اپنا استاد مان کر اُن کی پیروی شروع کر دی ہے۔
انٹرنیٹ پر موجود یہودی انسائیکلوپیڈیا میں آپ کو عبداللہ ابن سبا کے ضمن میں یہ پڑھنے کو ملے گا۔
ناصبی حضرات نے پچھلے ساڑھے بارہ سو سالوں میں سیف ابن عمر کذاب کی اس دیومالائی کہانی کا اتنا پروپیگنڈہ کیا کہ یہودیوں نے بھی ناصبی حضرات کو پروپیگنڈہ کرنے میں اپنا استاد مان کر اُن کی پیروی شروع کر دی ہے۔
انٹرنیٹ پر موجود یہودی انسائیکلوپیڈیا میں آپ کو عبداللہ ابن سبا کے ضمن میں یہ پڑھنے کو ملے گا۔
ABDALLAH IBN SABA
By Hartwig Hirschfe
A Jew of Yemen, Arabia, of the seventh century, who settled in Medina and embraced Islam. Having adversely criticized Calif Othman's administration, he was banished from the town. Thence he went to Egypt, where he founded an antiothmanian sect, to promote the interests of Ali. On account of his learning he obtained great influence there, and formulated the doctrine that, just as every prophet had an assistant who afterward succeeded him, Mohammed's vizier was Ali, who had therefore been kept out of the califate by deceit. Othman had no legal claim whatever to the califate; and the general dissatisfaction with his government greatly contributed to the spread of Abdallah's teachings. Tradition relates that when Ali had assumed power, Abdallah ascribed divine honors to him by addressing him with the words, "Thou art Thou!" Thereupon Ali banished him to Madain. After Ali's assassination Abdallah is said to have taught that Ali was not dead but alive, and had never been killed; that a part of the Deity was hidden in him; and that after a certain time he would return to fill the earth with justice. Till then the divine character of Ali was to remain hidden in the imams, who temporarily filled his place. It is easy to see that the whole idea rests on that of the Messiah in combination with the legend of Elijah the prophet. The attribution of divine honors to Ali was probably but a later development, and was fostered by the circumstance that in the Koran Allah is often styled "Al-Ali" (The Most High).
Bibliography: Shatrastani al-Milal, pp. 132 et seq. (in Haarbrücken's translation, i. 200-201);
Weil, Gesch. der Chalifen, i. 173-174, 209, 259.
ناصبی حضرات کو پروپیگنڈہ کے میدان میں یہ کامیابی مبارک ہو کہ انہوں نے اس میدان کے سب سے بڑے ماہر، اہلِ یہود کو بھی کئی ہاتھ پیچھے چھوڑ کر اپنے جھنڈے دور تک گاڑ دیے ہیں۔ اللہ روزِ قیامت ان ناصبی حضرات کے جھنڈے اس کذب بیانی پر یقیناً جہنم میں اس بھی دور تک گاڑھے گا۔ امین۔
اور اس دنیا میں ان ناصبی حضرات نے کذب بیانی و پروپیگینڈہ میں یہودیوں کو تو پیچھے چھوڑ دیا، مگر جب حق کی بات آئی تو پچھلے ساڑھے بارہ سو سالوں میں سیف ابن عمر کذاب سے پاک ایک بھی روایت ایسی نہیں پیش کر سکے جو یہ بتاتی ہو کہ یہ سبائی یا شیعہ تھے کہ جنہوں نے عثمان کے قتل میں کسی قسم کا چھوٹا سا بھی حصہ لیا ہو۔
ان کے چھٹی صدی تک کے تمام کے تمام سلف علماء، یعنی بخاری و مسلم سے لیکر ترمذی و نسائی تک، اور مصنف ابن ابی شیبہ و امام ابو حنیفہ اور ان کے ہزاروں شاگردوں سے لیکر شافعی، احمد بن حنبل و مالک ۔۔۔۔۔ سے لیکر ہزاروں علماء اس عظیم یہودی سازش (کہ جس کے سیکڑوں اور ہزاروں عینی شاہد ہونے چاہئے اور جس کی وجہ سے ہزاروں مسلمانوں کا اپنے ہی مسلمان بھائیوں کے ہاتھوں خون ہوا) کے متعلق ایک چھوٹی سے چھوٹی روایت تک نہیں پیش کر سکے۔
اور اس دنیا میں ان ناصبی حضرات نے کذب بیانی و پروپیگینڈہ میں یہودیوں کو تو پیچھے چھوڑ دیا، مگر جب حق کی بات آئی تو پچھلے ساڑھے بارہ سو سالوں میں سیف ابن عمر کذاب سے پاک ایک بھی روایت ایسی نہیں پیش کر سکے جو یہ بتاتی ہو کہ یہ سبائی یا شیعہ تھے کہ جنہوں نے عثمان کے قتل میں کسی قسم کا چھوٹا سا بھی حصہ لیا ہو۔
ان کے چھٹی صدی تک کے تمام کے تمام سلف علماء، یعنی بخاری و مسلم سے لیکر ترمذی و نسائی تک، اور مصنف ابن ابی شیبہ و امام ابو حنیفہ اور ان کے ہزاروں شاگردوں سے لیکر شافعی، احمد بن حنبل و مالک ۔۔۔۔۔ سے لیکر ہزاروں علماء اس عظیم یہودی سازش (کہ جس کے سیکڑوں اور ہزاروں عینی شاہد ہونے چاہئے اور جس کی وجہ سے ہزاروں مسلمانوں کا اپنے ہی مسلمان بھائیوں کے ہاتھوں خون ہوا) کے متعلق ایک چھوٹی سے چھوٹی روایت تک نہیں پیش کر سکے۔
