تہذیب اور زبان
کسی بھی تہذیب کے پروان چڑھنے میں زبان کا بہت بڑا رول ہوتا ہے۔بلکہ تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ بعض اوقات زبان ہی ایک مکمل تہذیب ہوتی ہے۔۔خاص طور پر اردو زبان کی اہمیت اس لیے بھی بہت زیادہ ہوجاتی ہے کہ بر صغیر ہند و پاک میں اسلامی لٹریچر کا اثاثہ اردو زبان کی مرہون منت ہے۔اور جب جب اسلامی لٹریچر اور اسلامی ادب پر توجہ دی گی، قوم ایک زمانہ تک اس زبان کے ذریہ اپنے اقدار کو باقی رکھ پای، چنانچہ نہ صرف قران، حدیث کے مختلف تراجم کے گے بلکہ مختلف ادوار میں اردو زبان نے اسلامی محققین اور اسکالرز کی ایک بڑی تعداد مسلم امہ کو دی۔۔۔اور اسکی بدولت یہ چیز ایک تہذہب بنکر خاص طور پر بر صغیر میں اسلامی تہزیب کی شناخت بن گی، لیکن جیسے جیسے اردو زبان مغرب کے اسلام دشمن عناصر کی سازش کا شکار ہوگی تب سے نہ صرف اخلاقیات کی چادر اپنے آپ سمٹنا شروع ہوگی بلکہ فرنگی انداز میں ہم نے زبان کی بھی مٹی پلید کردی، اور اج اردو زبان ہوسکتا کہ ہمارے گھروں میں بول چال کی حد تک باقی ہو، یا کہیں میڈیم اف انسٹرکشن کے طور پر بھی ابھی تک باقی ہو، لییکن اردو اہستہ اہستہ کم ہوتی جارہی ہے، اور اس کی جگہ، ماڈرن انداز میں مکسڈ انداز کی اردو بولی جانے لگی ہے، تہذیبیں گڈ مڈ ہوجاتی ہیں تب، اخلاقی اقدار اور رہن سہن پر اسکا بہت برا اثر پڑتا ہے، نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ ہم قد م قدم پر اس بہران کو سر کی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں، ہاں اس کی اہمیت کو سمجھا گیا تو، مایوسی کی بات نہیں ، لیکن اگر زبان کو محض زبان سمجھا گیا، اور خاص طور انگلش زبانی کی مکمل اختیار کرلیا گیا تو، ہم نہ صرف انگلش بونلے کی قابل ہوجاینگے بلکہ ساتھ ہی ساتھ، اسکو ایسے اپناینے گہ ہم خود انگلش بن جاینگے۔۔اور مغرب چاہتا یہی ہے کہ ہماری روایتیں ختم ہوجایں اور اسکی جگہ نے رجحانات ایں تاکہ ، زمانہ کا شانہ بہ شانہ ساتھ دے سکیں، ترقی یافتہ دور میں لبرل سونچ کی اپنی جگہ اہمیت ہے، لیکن اسکی انتہا ہمیں ایسی پستیوں میں لے جاینگی
جہاں سے پھر سے اٹھنا ہمارے لیے محال ہوجایگا۔۔۔اردو زبان کی بقا ہم سب کی ذمہ داری ہے، اور اس کو اپنا نا صرف زبان کو اپنانا نہیں
بلکہ بر صغیر میں اسلامی تہذیب اور تمدن میں اردو کا بہت بڑا رول ہوسکتا ہے۔۔۔
