اللہ سے براہ راست مانگنا یا پھر رسول ﷺ کے وسیلے اللہ سے مانگنا؟
اہلحدیث حضرات کا رسول ﷺ کے وسیلے سے مانگنے سے انکار کرنا
اہلحدیث حضرات کا خود ساختہ عقیدہ یہ ہے کہ انسان اللہ سے صرف اور صرف براہ راست طلب کر سکتا ہے۔ اور اگر کوئی مسلمان اللہ کو رسول ﷺ کے وسیلے سے طلب کرتا ہے تو یہ حضرات فوراً یہ اعتراض کرتے ہیں کہ:
کیا اللہ (نعوذ باللہ) بہرا ہے جو وہ ہمیں براہِ راست نہیں سن سکتا ہے؟
اور کیا اللہ (نعوذ باللہ) اندھا ہے جو وہ ہمیں براہ راست نہیں دیکھ سکتا ہے؟
اور پھر قران کی وہ آیت نقل کرتے ہیں جس میں اللہ کہہ رہا ہے کہ وہ انسان کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے
وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ
(القران 50:16) (اللہ کہہ رہا ہے) اور ہم اس (انسان) کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں۔
اور دوسری یہ آیت پیش کرتے ہیں:
وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُواْ لِي وَلْيُؤْمِنُواْ بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ
(القران 2:186) جب میرے بندے تم سے میرے متعلق پوچھیں تو بیشک میں ان کے بہت قریب ہوں۔ میں ہر پکارنے والے کی پکار کو سنتا ہوں جب وہ مجھے پکارے۔
اِن آیات کو بنیاد بنا کر اہلحدیث حضرات یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اللہ نے اپنے اور بندے کے درمیان رابطہ کی کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی ہے۔۔۔۔ تو پھر کسی دوسرے کی طرف کیوں دیکھا جائے؟؟
ہمارا جواب:
اہلحدیث حضرات قران و حدیث کے صرف ایک حصے کو لیکر اپنے عقائد کو ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور دوسرے حصے کو انہوں نے مکمل طور پر ٹھکرایا ہوا ہے اور کسی طرح راضی نہیں ہیں کہ اُس سے بھی ہدایت حاصل کریں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ قران و سنت اس حوالے سے کیا کہہ رہے ہیں۔
اللہ اپنے رسول ﷺ کو اپنے اور اپنی مخلوق کے درمیان شامل کرنا چاہتا ہے، جبکہ اہلحدیث رسول ﷺ کو درمیان سے نکال دینا چاہتے ہیں
اللہ تعالیٰ قران میں فرماتا ہے:
وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذ ظَّلَمُواْ أَنفُسَهُمْ جَآؤُوكَ فَاسْتَغْفَرُواْ اللّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُواْ اللّهَ تَوَّابًا رَّحِيمًا
(القران 6:64) اور کاش جب ان لوگوں نے اپنے نفس پر ظلم کیا تھا تو اگر وہ آپ کے پاس آ جاتے اور اپنے گناہوں کے لئے استغفار کرتے اور پھر رسول بھی ان کے حق میں استغفار کرتا تو یہ خدا کو بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا اور مہربان پاتے۔
تمام مفسرین (بشمول اہلحدیث) اس بات پر متفق ہیں کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب کچھ صحابہ نے بہت ہی سنگین غلطی کی تھی۔ بعد میں انہیں اپنی اس غلطی کا احساس ہوا اور انہوں نے چاہا کہ اس کی توبہ کریں۔
اور انہوں نے اللہ اسے براہ راست اپنے گناہ کی توبہ چاہی، مگر اللہ نے انہیں معاف نہیں کیا بلکہ غور سے دیکھیں کہ اللہ انہیں کیا جواب دے رہا ہے:
اللہ نے ان کی معافی کی براہِ راست درخواست کر رد کر دیا۔
اور پھر اللہ نے انہیں حکم دیا کہ وہ پہلے رسول ﷺ کے پاس جائیں اور پھر اللہ سے استغفار کریں۔
اور آخری شرط یہ رکھی کہ وہ رسول ﷺ سے بھی درخواست کریں کہ وہ بھی اللہ سے اُن کے لیے معافی کی درخواست طلب کریں (یعنی ان کے لیے استغفار کریں)۔
اللہ نے اُن صحابہ کو بتا دیا اگر وہ ان تین مراحل پر عمل کریں گے (یعنی رسول ﷺ کو بھی اپنی توبہ کی درخواست میں شامل کریں گے) تو صرف اور صرف اس کے بعد ہی وہ اللہ کو بہت بخشنے والا اور مہربان پائیں گے۔
اب اس سلسلے میں مندرجہ ذیل سوالات اٹھتے ہیں:
توبہ اور معاف کر دینے کا یہ معاملہ اللہ اور اُن صحابہ کے درمیان تھا (یعنی غلطی صحابہ نے کی، اور معاف کرنے والا اللہ ہے)۔
تو پھر اللہ نے رسول ﷺ کو (کہ جن کی حیثیت اس معاملے میں کی ہے) اس میں اس حد تک کیوں شامل کیا کہ صرف اُن کی شمولیت کے بعد ہی معافی ملے گی؟
کیا اللہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ کسی کو معاف کرنے کے لیے رسول ﷺ کی استغار پر انحصار کرے؟ کیا وہ رسول ﷺ کو شامل کیے بغیر معاف کرنے کی طاقت نہیں رکھتا؟
اگر رکھتا ہے (اور یقیناً رکھتا ہے) تو پھر اِن صحابہ نے براہ راست اللہ سے معافی کیوں نہ مانگ لی اور اللہ نے انہیں براہِ راست ہی معاف کیوں نہیں کر دیا؟
اللہ اپنے رسول ﷺ سےکہہ رہا ہے کہ وہ دوسروں کے لیے استغفار کریں۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ اپنے رسول ﷺ پر یہ زائد ذمہ داری کیوں لگا رہا ہے؟ یعنی یہ غلطی رسول ﷺ نے تو نہیں کی تھی، تو پھر رسول ﷺ پر دوسروں کے گناہوں کے استغفار کا یہ زائد بوجھ کیوں؟
یاد رکھیں کہ اہلحدیث حضرات کا بہانہ یہ ہوتا ہے کہ اس معاملے میں رسول ﷺ کو اس لیے شامل کیا گیا کیونکہ اُن صحابہ (یا صحابی) نے رسول ﷺ کے فیصلے کو نہیں مانا تھا اور اس لیے انہیں حکم دیا گیا کہ وہ رسول ﷺ کے پاس جائیں۔
مگر یہ محض ایک بہانہ ہے۔ اگر اُن صحابہ (یا صحابی) نے رسول ﷺ کے فیصلے کو نہیں مانا تھا تو انکو (یا اُس صحابی کو) رسول ﷺ سے معافی مانگنی چاھیئے تھی اور رسول ﷺ کو چاہئے تھا کہ انہیں معاف کر دیں۔
مگر یہاں تو اللہ اپنے رسول ﷺ سے کہہ رہا ہے کہ رسول ﷺ خود معاف کر دینے کی بجائے اُن صحابہ (یا صحابی) کے لیے اللہ سے استغفار کریں اور خود معاف کر دینے میں اور اللہ سے استغفار کرنے میں بہت فرق ہے جو اہلحدیث حضرات اپنے بھونڈے عقائد کی وجہ سے نہیں دیکھ پا رہے۔
اور اِن کے اس بہانے کا پول اس بات سے بھی کھل جاتا ہے کہ یہ واحد جگہ نہیں ہے جب اللہ نے اپنے رسول ﷺ کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنی امت کے گنہگاروں کے لیے استغفار کریں، بلکہ قران میں اللہ بار بار یہ فریضہ اپنے رسول ﷺ کے سپرد کر رہا ہے کہ وہ اپنی امت کے لیے استغفار کریں۔
(القران ) ۔۔۔۔۔(اے رسول) ان کے لئے استغفار کرو اور ان سے امر جنگ میں مشورہ کرو۔۔۔۔
(القران ) آپ ان کے لئے استغفار کریں یا نہ کریں -اگر ستر ّمرتبہ بھی استغفار کریں گے تو خدا انہیں بخشنے والا نہیں ہے اس لئے کہ انہوں نے اللہ اور رسول کا انکار کیا ہے اور خدا فاسق قوم کو ہدایت نہیں دیتا ہے ۔ ۔ ۔ اور خبردار ان میں سے کوئی مر بھی جائے تو اس کی نماز جنازہ نہ پڑھئے گا اور اس کی قبر پر کھڑے بھی نہ ہوئیے
یہ آیت کفار کے لئے ہے کہ اے رسول ﷺ آپ ان کے لئے دعا کریں یا نہ کریں، اللہ انہیں بخشنے والا نہیں۔ مگر اہلحدیث حضرات اس آیت کو مسلمانوں پر چسپاں کر رہے ہوتے ہیں۔
(القران ) اور اللہ سے (ان لوگوں کے لئے) استغفار کیجئے کہ اللہ بڑا غفور و رحیم ہے۔ اور خبردار جو لوگ خود اپنے نفس سے خیانت کرتے ہیں ان کی طرف سے دفاع نہ کیجئے گا کہ خدا خیانت کار مجرموں کو ہرگز دوست نہیں رکھتا ہے
(القران ) پیغمبر آپ ان کے اموال میں سے زکوۃ لے لیجئے کہ اس کے ذریعہ یہ پاک و پاکیزہ ہوجائیں اور انہیں دعائیں دیجئے کہ آپ کی دعا ان کے لئے تسکین قلب کا باعث ہوگی
(القران ) نبی اور صاحبانِ ایمان کی شان یہ نہیں ہے کہ وہ مشرکین کے حق میں استغفار کریں
(القران ) وہی اللہ اور رسول پر ایمان رکھتے ہیں لہذا جب آپ سے کسی خاص حالت کے لئے اجازت طلب کریں تو آپ جس کو چاہیں اجازت دے دیں اور ان کے حق میں اللہ سے استغفار بھی کریں کہ اللہ بڑا غفور اور رحیم ہے
(القران 47:19) تو یہ سمجھ لو کہ اللہ کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے اور اپنے اور ایماندار مردوں اور عورتوں کے لئے استغفار کرتے رہو کہ اللہ تمہارے چلنے پھرنے اور ٹہرنے سے خوب باخبر ہے
(القران ) تو آپ ان سے بیعت کا معاملہ کرلیں اور ان کے حق میں استغفار کریں
(القران 63:5 اور 63:6) اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ رسول اللہ تمہارے حق میں استغفار کریں گے تو سر پھرا لیتے ہیں اور تم دیکھو گے کہ استکبار کی بنا پر منہ بھی موڑ لیتے ہیں۔ ان کے لئے سب برابر ہے چاہے آپ استغفار کریں یا نہ کریں خدا انہیں بخشنے والا نہیں ہے۔
بیشک اللہ کو اس بات میں رسول ﷺ کے استغفار کی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ وہ امتِ مسلمہ کو بخشے۔ مگر اللہ پھر بھی قران میں بار بار رسول ﷺ کو استغفار کرنے کا حکم اسی لیے دے رہا ہے کہ ہم سمجھیں کہ رسول ﷺ کو اپنا وسیلہ بنانا ہماری دعاؤوں کی قبولیت کے لیے کتنا اہم ہے۔
کئی سو احادیث موجود ہیں جو ثابت کرتی ہیں کہ صحابہ براہ راست اللہ سے مانگنے کے بجائے، رسول ﷺ کے وسلیے سے مانگا کرتے تھے
پچھلے باب میں ہم نے ایسی بے تحاشہ احادیث بیان کیں ہیں۔ اس لیے اختصار سے کام لیتے ہوئے ہم یہاں صرف دو احادیث نقل کرنے پر اکتفا کر رہے ہیں:
صحیح مسلم اللباس والزينة تحريم استعمال إناء الذهب والفضة على الرجال والنساء 3855
حدثنا يحيى بن يحيى أخبرنا خالد بن عبد الله عن عبد الملك عن عبد الله مولى أسماء بنت أبي بكر وكان خال ولد عطاء قال أرسلتني أسماء إلى عبد الله بن عمر فقالت بلغني أنك تحرم أشياء ثلاثة العلم في الثوب وميثرة الأرجوان وصوم رجب كله فقال لي عبد الله أما ما ذكرت من رجب فكيف بمن يصوم الأبد وأما ما ذكرت من العلم في الثوب فإني سمعت عمر بن الخطاب يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول إنما يلبس الحرير من لا خلاق له فخفت أن يكون العلم منه وأما ميثرة الأرجوان فهذه ميثرة عبد الله فإذا هي أرجوان فرجعت إلى أسماء فخبرتها فقالت هذه جبة رسول الله صلى الله عليه وسلم فأخرجت إلي جبة طيالسة كسروانية لها لبنة ديباج وفرجيها مكفوفين بالديباج فقالت هذه كانت عند عائشة حتى قبضت فلما قبضت قبضتها وكان النبي صلى الله عليه وسلم يلبسها فنحن نغسلها للمرضى يستشفى بها
حضرت اسماء کے مولیٰ عبداللہ سے روایت ہے کہ حضرت اسماء بنت ابی بکر نے کسروانی طیلسان کا جبہ نکالا جس کے گریبان اور چاکوں پر ریشم کا کپڑا لگا ہوا تھا۔ کہنے لگیں: یہ حضرت عائشہ کے پاس تھا۔ جب وہ فوت ہوئیں تو یہ جبہ میرے قبضے میں آ گیا۔ نبی کریم ﷺ اس کو پہنتے تھے۔ اور اب ہم بیماروں کہ لیے اس کو دھوتے ہیں اور اس کے ذریعے بیماروں کے لیے شفاء طلب کرتے ہیں۔
اب ذرا ان حقائق پر توجہ فرمائیے:
بیشک اللہ ہماری شہ رگ سے بھی زیادہ ہمارے قریب ہے۔ مگر پھر حضرت عائشہ اور اسماء بنت ابی بکر نے بجائے اس کُرتے کے براہِ راست اللہ سے کیوں نہیں شفا مانگ لی؟
کیا یہ دونوں خواتین یہ سمجھتی تھیں کہ اللہ (نعوذ بااللہ)بہرا ہے اور وہ اُن کی پکار کو براہِ راست سننے سے قاصر ہے؟
اسی طرح ام المومنین حضرت سلمہ (ر) سے روایت ہے :
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا کہا ہم سے اسرائیل نے، انہوں نے سلیمان بن عبدااللہ وہب سے کہا مجھ کو میرے گھر والوں نے ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک پیالی پانی کی دے کر بھجوایا، اسرائیل راوی نے تین انگلیاں بند کر لیں۔ یہ پیالی چاندی کی تھی۔ اس میں آنحضرتﷺ کے کچھ بال ڈال دئے گئے۔ عثمان نے کہا کہ جب کسی شخص کو نظرِ بد لگ جاتی تھی یا اور کوئی بیماری ہوتی تو وہ اپنا کنگھال (برتن) پانی کا بی بی ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجتا۔ عثمان نے کہا میں نے اس کو جھانک کر دیکھا تو سرخ سرخ بال دکھائی دئیے۔
صحیح بخاری، کتاب اللباس، ج 3 ص 399 ، ترجمہ از اہلحدیث عالم، مولانا وحید الزمان
اب ہم اپنی طرف سے مزید کوئی تبصرہ نہیں پیش کر رہے۔ مگر پڑھنے والوں سے درخواست ہے کہ وہ اُن تمام احادیث کو پڑھیں جو کہ پچھلے ابواب میں گذر چکی ہیں جو یہ بیان کر رہی ہیں کہ صحابہ کرام رسول ﷺ کے وسلیے سے مانگا کرتے تھے۔
چیلنج کہ رسول ﷺ اہلحدیث نہیں تھے
اوپر بیان کی گئی آیات کی وجہ سے یہ صحابہ کرام کی مستقل عادت تھی کہ وہ رسول ﷺ کے پاس آتے تھے اور آپ ﷺ سے اپنے لیے دعا کی درخواست کیا کرتے تھے۔
یہ ہمارا چیلنج ہے کہ رسول ﷺ اہلحدیث نہیں تھے ورنہ بجائے صحابہ کے لیے دعا کرنے کے وہ ان سے کہتے:
مجھے اپنے اور اللہ کے درمیان کیوں ایسے وسیلہ بناتے ہو جیسا کہ کفار اپنے بتوں کو وسیلہ بنایا کرتے تھے؟
اور تمہیں کوئی ضرورت نہیں ہے کہ مجھ سے درخواست کرو کہ میں تمہاری درخواست اللہ تک پہنچاؤں کیونکہ اللہ ہر ہر بندے کی پکار کو خود سن سکتا ہے کیونکہ وہ شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔
میرے پاس سے چلے جاؤ اور جا کر اللہ سے براہ راست دعا مانگ لو۔
مگر ان تمام باتوں کے برعکس، رسول تو صحابہ کی مزید حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ آ آ کر اُن ﷺ سے اپنے حق میں دعا کروایا کریں۔
حضرت موسی علیہ السلام بھی اہلحدیث نہیں تھے
اللہ قران میں فرماتا ہے:
وَقَطَّعْنَاهُمُ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ أَسْبَاطًا أُمَمًا وَأَوْحَيْنَا إِلَى مُوسَى إِذِ اسْتَسْقَاهُ قَوْمُهُ أَنِ اضْرِب بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ فَانبَجَسَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَيْنًا قَدْ عَلِمَ كُلُّ أُنَاسٍ مَّشْرَبَهُمْ وَظَلَّلْنَا عَلَيْهِمُ الْغَمَامَ وَأَنزَلْنَا عَلَيْهِمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوَى كُلُواْ مِن طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَمَا ظَلَمُونَا وَلَـكِن كَانُواْ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ
(القران 7:160) اور (ہم نے) موسٰی علیہ السلام کی طرف وحی کی جب ان کی قوم نے پانی مانگا کہ زمین پر عصا ماردو -انہوں نے عصا ماراتو بارہ چشمے جاری ہوگئے ۔ ۔ ۔ ا اور ہم نے ان کے سروں پر ابر کا سایہ کیااور ان پر من و سلوٰی جیسی نعمت نازل کی
تو جب قوم نے موسیٰ علیہ السلام سے پانی مانگا تو کیا آپ(علیہ السلام) نے اپنی امت کو یہ کہا کہ:
اے قوم والو! تم اللہ کی بجائے مجھ سے پانی مانگ کر مشرک ہو گئے ہو۔ اور تمہیں چاہئے تھا کہ اللہ سے براہِ راست پانی مانگتے۔
اور پھر اللہ اس مشرکانہ فعل پر کیوں خاموش رہتا ہے اور ان کو اس پر ڈراتا دھمکاتا کیوں نہیں ہے؟ بلکہ اس کے برعکس اللہ اُن پر من و سلویٰ نازل فرماتا ہے اور اپنی رحمت نازل کرتا ہے۔
نبی یعقوب علیہ السلام بھی اہلحدیث نہیں تھے
اللہ قران میں فرما رہا ہے:
قَالُواْ يَا أَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا إِنَّا كُنَّا خَاطِئِينَ
قَالَ سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّيَ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ
(القران 12:97 اور 12:98) ان لوگوں نے کہا بابا جان اب آپ ہمارے گناہوں کے لئے استغفار کریں ہم یقینا خطاکار تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں عنقریب تمہارے حق میں استغفار کروں گا کہ میرا پروردگار بہت بخشنے والا اور مہربان ہے
اگر نبی یعقوب علیہ السلام اہلحدیث ہوتے تو وہ اپنے بیٹوں کو کہتے کہ وہ اُن کے پاس کیوں آئیں ہیں۔ انہیں چاہئے کہ وہ جا کر اللہ سے براہِ راست اپنے گناہوں کی معافی مانگیں۔
اور اللہ بھی اہلحدیث نہیں ہے کیونکہ اگر وہ اہلحدیث ہوتا تو بجائے معاف کرنے کے حضرت یعقوب(علیہ السلام) اور اُن کے بیٹوں سے دگنا ناراض ہو جاتا کہ گناہ کرنے کے ساتھ ساتھ وہ شرک بھی کر رہے ہیں۔
اہلحدیث عقیدہ بالمقابل شیعہ/سنی عقیدہ
ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ بیشک اللہ ہماری شہ رگ سے بھی زیادہ ہمارے قریب ہے، اور اس کی قدرت میں تمام تر طاقت ہے کہ وہ ہماری پکار کو براہِ راست سنے اور ہماری دعاؤوں کو قبول کرے۔ اور اس میں کوئی حرج نہیں ہے اگر اللہ سے براہ راست مانگا جائے اور بیشک یہ عین حلال عمل ہے اور مانگنے کی کوئی بھی صورت ہو، ہم اصل میں اللہ سے ہی مانگ رہے ہوتے ہیں۔
مگر ہم یہ بھی یقین رکھتے ہیں کہ اگر رسول ﷺ کی شفاعت (یعنی دعا) بھی ہماری دعاؤوں میں شامل ہو جائے تو یہ اللہ سے مانگنے کا بہترین طریقہ ہے۔ اور اسکا مکمل ثبوت قران اور حدیث میں موجود ہے۔
یہ ایسا ہی ہے کہ جیسے اللہ ہماری دعاؤوں کو اُس وقت بھی سنتا ہے جب ہم اپنے گھروں میں دعا کرتے ہیں۔ مگر اگر یہی دعا ہم خانہ کعبہ میں جا کر کریں تو مسجد الحرام کی برکت بھی ہماری دعاؤوں میں شامل ہو جاتی ہے اور ہماری دعاؤوں کے قبول ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
اگر اہلحدیث حضرات شرک کے نام پر آج اس بہترین اور حلال عمل کو حرام کر کے نئی شریعت جاری کرنا چاہتے ہیں، تو ہم اس گمراہ کُن بدعت کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔
یہ اللہ کا اپنے رسول ﷺ سے وعدہ ہے کہ اُس نے اپنے ساتھ ساتھ محمد ﷺ کا ذکر بھی بلند کیا ہے۔ چنانچہ قران میں اللہ فرماتا ہے:
وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ
(القران 94:4) (اے رسول) ہم نے تمہارا ذکر بلند کیا ہے
اہلحدیث حضرات کے رویے کے برعکس (یعنی جب وہ قران و سنت کے اِس ایک حصے کو ٹھکرا دیتے ہیں کیونکہ یہ انکے خود ساختہ عقائد کے خلاف جاتا ہے)، ہم دین کے معاملے میں اپنی عقل سے کسی چیز کو حرام نہیں قرار دیتے، بلکہ پورے قران اور پوری سنت سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ اور رسولﷺ کے جس ذکر کو یہ کم کرنا چاہتے ہیں، اللہ نے توفیق عطا فرمائی تو ہم اسے کم نہ ہونے دیں گے۔ انشاء اللہ۔
چنانچہ ہم شرک اور بدعت کے نام پر کسی ایسی چیز کو حرام نہیں کرتے جو کہ اللہ نے ہمارے لئے حلال قرار دی ہے۔ اللہ قران میں فرماتا ہے:
قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللّهِ الَّتِيَ أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ وَالْطَّيِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ قُلْ هِي لِلَّذِينَ آمَنُواْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا خَالِصَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَذَلِكَ نُفَصِّلُ الآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ
(القران 7:32) پیغمبر آپ پوچھئے کہ کس نے اس زینت کو جس کو خدا نے اپنے بندوں کے لئے پیدا کیا ہے اور پاکیزہ رزق کو حرام کردیا ہے ۔ ۔ ۔ ۔
اللہ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم اسکی دی ہوئی پوری ہدایت پر عمل کریں اور اس کی دی ہوئی نعمتوں کو صرف اس لئے نہ حرام قرار دیں کیونکہ وہ ہماری خواہشات کے خلاف جاتی ہیں۔
اللہ محمد و آلِ محمد اور آپ سب پر اپنی رحمتیں اور برکتیں نازل فرمائے۔ اٰمین۔
اہلحدیث حضرات کا رسول ﷺ کے وسیلے سے مانگنے سے انکار کرنا
اہلحدیث حضرات کا خود ساختہ عقیدہ یہ ہے کہ انسان اللہ سے صرف اور صرف براہ راست طلب کر سکتا ہے۔ اور اگر کوئی مسلمان اللہ کو رسول ﷺ کے وسیلے سے طلب کرتا ہے تو یہ حضرات فوراً یہ اعتراض کرتے ہیں کہ:
کیا اللہ (نعوذ باللہ) بہرا ہے جو وہ ہمیں براہِ راست نہیں سن سکتا ہے؟
اور کیا اللہ (نعوذ باللہ) اندھا ہے جو وہ ہمیں براہ راست نہیں دیکھ سکتا ہے؟
اور پھر قران کی وہ آیت نقل کرتے ہیں جس میں اللہ کہہ رہا ہے کہ وہ انسان کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے
وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ
(القران 50:16) (اللہ کہہ رہا ہے) اور ہم اس (انسان) کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں۔
اور دوسری یہ آیت پیش کرتے ہیں:
وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُواْ لِي وَلْيُؤْمِنُواْ بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ
(القران 2:186) جب میرے بندے تم سے میرے متعلق پوچھیں تو بیشک میں ان کے بہت قریب ہوں۔ میں ہر پکارنے والے کی پکار کو سنتا ہوں جب وہ مجھے پکارے۔
اِن آیات کو بنیاد بنا کر اہلحدیث حضرات یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اللہ نے اپنے اور بندے کے درمیان رابطہ کی کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی ہے۔۔۔۔ تو پھر کسی دوسرے کی طرف کیوں دیکھا جائے؟؟
ہمارا جواب:
اہلحدیث حضرات قران و حدیث کے صرف ایک حصے کو لیکر اپنے عقائد کو ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور دوسرے حصے کو انہوں نے مکمل طور پر ٹھکرایا ہوا ہے اور کسی طرح راضی نہیں ہیں کہ اُس سے بھی ہدایت حاصل کریں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ قران و سنت اس حوالے سے کیا کہہ رہے ہیں۔
اللہ اپنے رسول ﷺ کو اپنے اور اپنی مخلوق کے درمیان شامل کرنا چاہتا ہے، جبکہ اہلحدیث رسول ﷺ کو درمیان سے نکال دینا چاہتے ہیں
اللہ تعالیٰ قران میں فرماتا ہے:
وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذ ظَّلَمُواْ أَنفُسَهُمْ جَآؤُوكَ فَاسْتَغْفَرُواْ اللّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُواْ اللّهَ تَوَّابًا رَّحِيمًا
(القران 6:64) اور کاش جب ان لوگوں نے اپنے نفس پر ظلم کیا تھا تو اگر وہ آپ کے پاس آ جاتے اور اپنے گناہوں کے لئے استغفار کرتے اور پھر رسول بھی ان کے حق میں استغفار کرتا تو یہ خدا کو بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا اور مہربان پاتے۔
تمام مفسرین (بشمول اہلحدیث) اس بات پر متفق ہیں کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب کچھ صحابہ نے بہت ہی سنگین غلطی کی تھی۔ بعد میں انہیں اپنی اس غلطی کا احساس ہوا اور انہوں نے چاہا کہ اس کی توبہ کریں۔
اور انہوں نے اللہ اسے براہ راست اپنے گناہ کی توبہ چاہی، مگر اللہ نے انہیں معاف نہیں کیا بلکہ غور سے دیکھیں کہ اللہ انہیں کیا جواب دے رہا ہے:
اللہ نے ان کی معافی کی براہِ راست درخواست کر رد کر دیا۔
اور پھر اللہ نے انہیں حکم دیا کہ وہ پہلے رسول ﷺ کے پاس جائیں اور پھر اللہ سے استغفار کریں۔
اور آخری شرط یہ رکھی کہ وہ رسول ﷺ سے بھی درخواست کریں کہ وہ بھی اللہ سے اُن کے لیے معافی کی درخواست طلب کریں (یعنی ان کے لیے استغفار کریں)۔
اللہ نے اُن صحابہ کو بتا دیا اگر وہ ان تین مراحل پر عمل کریں گے (یعنی رسول ﷺ کو بھی اپنی توبہ کی درخواست میں شامل کریں گے) تو صرف اور صرف اس کے بعد ہی وہ اللہ کو بہت بخشنے والا اور مہربان پائیں گے۔
اب اس سلسلے میں مندرجہ ذیل سوالات اٹھتے ہیں:
توبہ اور معاف کر دینے کا یہ معاملہ اللہ اور اُن صحابہ کے درمیان تھا (یعنی غلطی صحابہ نے کی، اور معاف کرنے والا اللہ ہے)۔
تو پھر اللہ نے رسول ﷺ کو (کہ جن کی حیثیت اس معاملے میں کی ہے) اس میں اس حد تک کیوں شامل کیا کہ صرف اُن کی شمولیت کے بعد ہی معافی ملے گی؟
کیا اللہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ کسی کو معاف کرنے کے لیے رسول ﷺ کی استغار پر انحصار کرے؟ کیا وہ رسول ﷺ کو شامل کیے بغیر معاف کرنے کی طاقت نہیں رکھتا؟
اگر رکھتا ہے (اور یقیناً رکھتا ہے) تو پھر اِن صحابہ نے براہ راست اللہ سے معافی کیوں نہ مانگ لی اور اللہ نے انہیں براہِ راست ہی معاف کیوں نہیں کر دیا؟
اللہ اپنے رسول ﷺ سےکہہ رہا ہے کہ وہ دوسروں کے لیے استغفار کریں۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ اپنے رسول ﷺ پر یہ زائد ذمہ داری کیوں لگا رہا ہے؟ یعنی یہ غلطی رسول ﷺ نے تو نہیں کی تھی، تو پھر رسول ﷺ پر دوسروں کے گناہوں کے استغفار کا یہ زائد بوجھ کیوں؟
یاد رکھیں کہ اہلحدیث حضرات کا بہانہ یہ ہوتا ہے کہ اس معاملے میں رسول ﷺ کو اس لیے شامل کیا گیا کیونکہ اُن صحابہ (یا صحابی) نے رسول ﷺ کے فیصلے کو نہیں مانا تھا اور اس لیے انہیں حکم دیا گیا کہ وہ رسول ﷺ کے پاس جائیں۔
مگر یہ محض ایک بہانہ ہے۔ اگر اُن صحابہ (یا صحابی) نے رسول ﷺ کے فیصلے کو نہیں مانا تھا تو انکو (یا اُس صحابی کو) رسول ﷺ سے معافی مانگنی چاھیئے تھی اور رسول ﷺ کو چاہئے تھا کہ انہیں معاف کر دیں۔
مگر یہاں تو اللہ اپنے رسول ﷺ سے کہہ رہا ہے کہ رسول ﷺ خود معاف کر دینے کی بجائے اُن صحابہ (یا صحابی) کے لیے اللہ سے استغفار کریں اور خود معاف کر دینے میں اور اللہ سے استغفار کرنے میں بہت فرق ہے جو اہلحدیث حضرات اپنے بھونڈے عقائد کی وجہ سے نہیں دیکھ پا رہے۔
اور اِن کے اس بہانے کا پول اس بات سے بھی کھل جاتا ہے کہ یہ واحد جگہ نہیں ہے جب اللہ نے اپنے رسول ﷺ کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنی امت کے گنہگاروں کے لیے استغفار کریں، بلکہ قران میں اللہ بار بار یہ فریضہ اپنے رسول ﷺ کے سپرد کر رہا ہے کہ وہ اپنی امت کے لیے استغفار کریں۔
(القران ) ۔۔۔۔۔(اے رسول) ان کے لئے استغفار کرو اور ان سے امر جنگ میں مشورہ کرو۔۔۔۔
(القران ) آپ ان کے لئے استغفار کریں یا نہ کریں -اگر ستر ّمرتبہ بھی استغفار کریں گے تو خدا انہیں بخشنے والا نہیں ہے اس لئے کہ انہوں نے اللہ اور رسول کا انکار کیا ہے اور خدا فاسق قوم کو ہدایت نہیں دیتا ہے ۔ ۔ ۔ اور خبردار ان میں سے کوئی مر بھی جائے تو اس کی نماز جنازہ نہ پڑھئے گا اور اس کی قبر پر کھڑے بھی نہ ہوئیے
یہ آیت کفار کے لئے ہے کہ اے رسول ﷺ آپ ان کے لئے دعا کریں یا نہ کریں، اللہ انہیں بخشنے والا نہیں۔ مگر اہلحدیث حضرات اس آیت کو مسلمانوں پر چسپاں کر رہے ہوتے ہیں۔
(القران ) اور اللہ سے (ان لوگوں کے لئے) استغفار کیجئے کہ اللہ بڑا غفور و رحیم ہے۔ اور خبردار جو لوگ خود اپنے نفس سے خیانت کرتے ہیں ان کی طرف سے دفاع نہ کیجئے گا کہ خدا خیانت کار مجرموں کو ہرگز دوست نہیں رکھتا ہے
(القران ) پیغمبر آپ ان کے اموال میں سے زکوۃ لے لیجئے کہ اس کے ذریعہ یہ پاک و پاکیزہ ہوجائیں اور انہیں دعائیں دیجئے کہ آپ کی دعا ان کے لئے تسکین قلب کا باعث ہوگی
(القران ) نبی اور صاحبانِ ایمان کی شان یہ نہیں ہے کہ وہ مشرکین کے حق میں استغفار کریں
(القران ) وہی اللہ اور رسول پر ایمان رکھتے ہیں لہذا جب آپ سے کسی خاص حالت کے لئے اجازت طلب کریں تو آپ جس کو چاہیں اجازت دے دیں اور ان کے حق میں اللہ سے استغفار بھی کریں کہ اللہ بڑا غفور اور رحیم ہے
(القران 47:19) تو یہ سمجھ لو کہ اللہ کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے اور اپنے اور ایماندار مردوں اور عورتوں کے لئے استغفار کرتے رہو کہ اللہ تمہارے چلنے پھرنے اور ٹہرنے سے خوب باخبر ہے
(القران ) تو آپ ان سے بیعت کا معاملہ کرلیں اور ان کے حق میں استغفار کریں
(القران 63:5 اور 63:6) اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ رسول اللہ تمہارے حق میں استغفار کریں گے تو سر پھرا لیتے ہیں اور تم دیکھو گے کہ استکبار کی بنا پر منہ بھی موڑ لیتے ہیں۔ ان کے لئے سب برابر ہے چاہے آپ استغفار کریں یا نہ کریں خدا انہیں بخشنے والا نہیں ہے۔
بیشک اللہ کو اس بات میں رسول ﷺ کے استغفار کی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ وہ امتِ مسلمہ کو بخشے۔ مگر اللہ پھر بھی قران میں بار بار رسول ﷺ کو استغفار کرنے کا حکم اسی لیے دے رہا ہے کہ ہم سمجھیں کہ رسول ﷺ کو اپنا وسیلہ بنانا ہماری دعاؤوں کی قبولیت کے لیے کتنا اہم ہے۔
کئی سو احادیث موجود ہیں جو ثابت کرتی ہیں کہ صحابہ براہ راست اللہ سے مانگنے کے بجائے، رسول ﷺ کے وسلیے سے مانگا کرتے تھے
پچھلے باب میں ہم نے ایسی بے تحاشہ احادیث بیان کیں ہیں۔ اس لیے اختصار سے کام لیتے ہوئے ہم یہاں صرف دو احادیث نقل کرنے پر اکتفا کر رہے ہیں:
صحیح مسلم اللباس والزينة تحريم استعمال إناء الذهب والفضة على الرجال والنساء 3855
حدثنا يحيى بن يحيى أخبرنا خالد بن عبد الله عن عبد الملك عن عبد الله مولى أسماء بنت أبي بكر وكان خال ولد عطاء قال أرسلتني أسماء إلى عبد الله بن عمر فقالت بلغني أنك تحرم أشياء ثلاثة العلم في الثوب وميثرة الأرجوان وصوم رجب كله فقال لي عبد الله أما ما ذكرت من رجب فكيف بمن يصوم الأبد وأما ما ذكرت من العلم في الثوب فإني سمعت عمر بن الخطاب يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول إنما يلبس الحرير من لا خلاق له فخفت أن يكون العلم منه وأما ميثرة الأرجوان فهذه ميثرة عبد الله فإذا هي أرجوان فرجعت إلى أسماء فخبرتها فقالت هذه جبة رسول الله صلى الله عليه وسلم فأخرجت إلي جبة طيالسة كسروانية لها لبنة ديباج وفرجيها مكفوفين بالديباج فقالت هذه كانت عند عائشة حتى قبضت فلما قبضت قبضتها وكان النبي صلى الله عليه وسلم يلبسها فنحن نغسلها للمرضى يستشفى بها
حضرت اسماء کے مولیٰ عبداللہ سے روایت ہے کہ حضرت اسماء بنت ابی بکر نے کسروانی طیلسان کا جبہ نکالا جس کے گریبان اور چاکوں پر ریشم کا کپڑا لگا ہوا تھا۔ کہنے لگیں: یہ حضرت عائشہ کے پاس تھا۔ جب وہ فوت ہوئیں تو یہ جبہ میرے قبضے میں آ گیا۔ نبی کریم ﷺ اس کو پہنتے تھے۔ اور اب ہم بیماروں کہ لیے اس کو دھوتے ہیں اور اس کے ذریعے بیماروں کے لیے شفاء طلب کرتے ہیں۔
اب ذرا ان حقائق پر توجہ فرمائیے:
بیشک اللہ ہماری شہ رگ سے بھی زیادہ ہمارے قریب ہے۔ مگر پھر حضرت عائشہ اور اسماء بنت ابی بکر نے بجائے اس کُرتے کے براہِ راست اللہ سے کیوں نہیں شفا مانگ لی؟
کیا یہ دونوں خواتین یہ سمجھتی تھیں کہ اللہ (نعوذ بااللہ)بہرا ہے اور وہ اُن کی پکار کو براہِ راست سننے سے قاصر ہے؟
اسی طرح ام المومنین حضرت سلمہ (ر) سے روایت ہے :
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا کہا ہم سے اسرائیل نے، انہوں نے سلیمان بن عبدااللہ وہب سے کہا مجھ کو میرے گھر والوں نے ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک پیالی پانی کی دے کر بھجوایا، اسرائیل راوی نے تین انگلیاں بند کر لیں۔ یہ پیالی چاندی کی تھی۔ اس میں آنحضرتﷺ کے کچھ بال ڈال دئے گئے۔ عثمان نے کہا کہ جب کسی شخص کو نظرِ بد لگ جاتی تھی یا اور کوئی بیماری ہوتی تو وہ اپنا کنگھال (برتن) پانی کا بی بی ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجتا۔ عثمان نے کہا میں نے اس کو جھانک کر دیکھا تو سرخ سرخ بال دکھائی دئیے۔
صحیح بخاری، کتاب اللباس، ج 3 ص 399 ، ترجمہ از اہلحدیث عالم، مولانا وحید الزمان
اب ہم اپنی طرف سے مزید کوئی تبصرہ نہیں پیش کر رہے۔ مگر پڑھنے والوں سے درخواست ہے کہ وہ اُن تمام احادیث کو پڑھیں جو کہ پچھلے ابواب میں گذر چکی ہیں جو یہ بیان کر رہی ہیں کہ صحابہ کرام رسول ﷺ کے وسلیے سے مانگا کرتے تھے۔
چیلنج کہ رسول ﷺ اہلحدیث نہیں تھے
اوپر بیان کی گئی آیات کی وجہ سے یہ صحابہ کرام کی مستقل عادت تھی کہ وہ رسول ﷺ کے پاس آتے تھے اور آپ ﷺ سے اپنے لیے دعا کی درخواست کیا کرتے تھے۔
یہ ہمارا چیلنج ہے کہ رسول ﷺ اہلحدیث نہیں تھے ورنہ بجائے صحابہ کے لیے دعا کرنے کے وہ ان سے کہتے:
مجھے اپنے اور اللہ کے درمیان کیوں ایسے وسیلہ بناتے ہو جیسا کہ کفار اپنے بتوں کو وسیلہ بنایا کرتے تھے؟
اور تمہیں کوئی ضرورت نہیں ہے کہ مجھ سے درخواست کرو کہ میں تمہاری درخواست اللہ تک پہنچاؤں کیونکہ اللہ ہر ہر بندے کی پکار کو خود سن سکتا ہے کیونکہ وہ شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔
میرے پاس سے چلے جاؤ اور جا کر اللہ سے براہ راست دعا مانگ لو۔
مگر ان تمام باتوں کے برعکس، رسول تو صحابہ کی مزید حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ آ آ کر اُن ﷺ سے اپنے حق میں دعا کروایا کریں۔
حضرت موسی علیہ السلام بھی اہلحدیث نہیں تھے
اللہ قران میں فرماتا ہے:
وَقَطَّعْنَاهُمُ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ أَسْبَاطًا أُمَمًا وَأَوْحَيْنَا إِلَى مُوسَى إِذِ اسْتَسْقَاهُ قَوْمُهُ أَنِ اضْرِب بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ فَانبَجَسَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَيْنًا قَدْ عَلِمَ كُلُّ أُنَاسٍ مَّشْرَبَهُمْ وَظَلَّلْنَا عَلَيْهِمُ الْغَمَامَ وَأَنزَلْنَا عَلَيْهِمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوَى كُلُواْ مِن طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَمَا ظَلَمُونَا وَلَـكِن كَانُواْ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ
(القران 7:160) اور (ہم نے) موسٰی علیہ السلام کی طرف وحی کی جب ان کی قوم نے پانی مانگا کہ زمین پر عصا ماردو -انہوں نے عصا ماراتو بارہ چشمے جاری ہوگئے ۔ ۔ ۔ ا اور ہم نے ان کے سروں پر ابر کا سایہ کیااور ان پر من و سلوٰی جیسی نعمت نازل کی
تو جب قوم نے موسیٰ علیہ السلام سے پانی مانگا تو کیا آپ(علیہ السلام) نے اپنی امت کو یہ کہا کہ:
اے قوم والو! تم اللہ کی بجائے مجھ سے پانی مانگ کر مشرک ہو گئے ہو۔ اور تمہیں چاہئے تھا کہ اللہ سے براہِ راست پانی مانگتے۔
اور پھر اللہ اس مشرکانہ فعل پر کیوں خاموش رہتا ہے اور ان کو اس پر ڈراتا دھمکاتا کیوں نہیں ہے؟ بلکہ اس کے برعکس اللہ اُن پر من و سلویٰ نازل فرماتا ہے اور اپنی رحمت نازل کرتا ہے۔
نبی یعقوب علیہ السلام بھی اہلحدیث نہیں تھے
اللہ قران میں فرما رہا ہے:
قَالُواْ يَا أَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا إِنَّا كُنَّا خَاطِئِينَ
قَالَ سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّيَ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ
(القران 12:97 اور 12:98) ان لوگوں نے کہا بابا جان اب آپ ہمارے گناہوں کے لئے استغفار کریں ہم یقینا خطاکار تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں عنقریب تمہارے حق میں استغفار کروں گا کہ میرا پروردگار بہت بخشنے والا اور مہربان ہے
اگر نبی یعقوب علیہ السلام اہلحدیث ہوتے تو وہ اپنے بیٹوں کو کہتے کہ وہ اُن کے پاس کیوں آئیں ہیں۔ انہیں چاہئے کہ وہ جا کر اللہ سے براہِ راست اپنے گناہوں کی معافی مانگیں۔
اور اللہ بھی اہلحدیث نہیں ہے کیونکہ اگر وہ اہلحدیث ہوتا تو بجائے معاف کرنے کے حضرت یعقوب(علیہ السلام) اور اُن کے بیٹوں سے دگنا ناراض ہو جاتا کہ گناہ کرنے کے ساتھ ساتھ وہ شرک بھی کر رہے ہیں۔
اہلحدیث عقیدہ بالمقابل شیعہ/سنی عقیدہ
ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ بیشک اللہ ہماری شہ رگ سے بھی زیادہ ہمارے قریب ہے، اور اس کی قدرت میں تمام تر طاقت ہے کہ وہ ہماری پکار کو براہِ راست سنے اور ہماری دعاؤوں کو قبول کرے۔ اور اس میں کوئی حرج نہیں ہے اگر اللہ سے براہ راست مانگا جائے اور بیشک یہ عین حلال عمل ہے اور مانگنے کی کوئی بھی صورت ہو، ہم اصل میں اللہ سے ہی مانگ رہے ہوتے ہیں۔
مگر ہم یہ بھی یقین رکھتے ہیں کہ اگر رسول ﷺ کی شفاعت (یعنی دعا) بھی ہماری دعاؤوں میں شامل ہو جائے تو یہ اللہ سے مانگنے کا بہترین طریقہ ہے۔ اور اسکا مکمل ثبوت قران اور حدیث میں موجود ہے۔
یہ ایسا ہی ہے کہ جیسے اللہ ہماری دعاؤوں کو اُس وقت بھی سنتا ہے جب ہم اپنے گھروں میں دعا کرتے ہیں۔ مگر اگر یہی دعا ہم خانہ کعبہ میں جا کر کریں تو مسجد الحرام کی برکت بھی ہماری دعاؤوں میں شامل ہو جاتی ہے اور ہماری دعاؤوں کے قبول ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
اگر اہلحدیث حضرات شرک کے نام پر آج اس بہترین اور حلال عمل کو حرام کر کے نئی شریعت جاری کرنا چاہتے ہیں، تو ہم اس گمراہ کُن بدعت کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔
یہ اللہ کا اپنے رسول ﷺ سے وعدہ ہے کہ اُس نے اپنے ساتھ ساتھ محمد ﷺ کا ذکر بھی بلند کیا ہے۔ چنانچہ قران میں اللہ فرماتا ہے:
وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ
(القران 94:4) (اے رسول) ہم نے تمہارا ذکر بلند کیا ہے
اہلحدیث حضرات کے رویے کے برعکس (یعنی جب وہ قران و سنت کے اِس ایک حصے کو ٹھکرا دیتے ہیں کیونکہ یہ انکے خود ساختہ عقائد کے خلاف جاتا ہے)، ہم دین کے معاملے میں اپنی عقل سے کسی چیز کو حرام نہیں قرار دیتے، بلکہ پورے قران اور پوری سنت سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ اور رسولﷺ کے جس ذکر کو یہ کم کرنا چاہتے ہیں، اللہ نے توفیق عطا فرمائی تو ہم اسے کم نہ ہونے دیں گے۔ انشاء اللہ۔
چنانچہ ہم شرک اور بدعت کے نام پر کسی ایسی چیز کو حرام نہیں کرتے جو کہ اللہ نے ہمارے لئے حلال قرار دی ہے۔ اللہ قران میں فرماتا ہے:
قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللّهِ الَّتِيَ أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ وَالْطَّيِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ قُلْ هِي لِلَّذِينَ آمَنُواْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا خَالِصَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَذَلِكَ نُفَصِّلُ الآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ
(القران 7:32) پیغمبر آپ پوچھئے کہ کس نے اس زینت کو جس کو خدا نے اپنے بندوں کے لئے پیدا کیا ہے اور پاکیزہ رزق کو حرام کردیا ہے ۔ ۔ ۔ ۔
اللہ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم اسکی دی ہوئی پوری ہدایت پر عمل کریں اور اس کی دی ہوئی نعمتوں کو صرف اس لئے نہ حرام قرار دیں کیونکہ وہ ہماری خواہشات کے خلاف جاتی ہیں۔
اللہ محمد و آلِ محمد اور آپ سب پر اپنی رحمتیں اور برکتیں نازل فرمائے۔ اٰمین۔
