Help - Search - Members - Calendar
Full Version: Allah Tala Se Barah E Rast Mangna
HulChul.NET > Religions > Islam
shehzada salman
اللہ سے براہ راست مانگنا یا پھر رسول ﷺ کے وسیلے اللہ سے مانگنا؟


اہلحدیث حضرات کا رسول ﷺ کے وسیلے سے مانگنے سے انکار کرنا

اہلحدیث حضرات کا خود ساختہ عقیدہ یہ ہے کہ انسان اللہ سے صرف اور صرف براہ راست طلب کر سکتا ہے۔ اور اگر کوئی مسلمان اللہ کو رسول ﷺ کے وسیلے سے طلب کرتا ہے تو یہ حضرات فوراً یہ اعتراض کرتے ہیں کہ:

کیا اللہ (نعوذ باللہ) بہرا ہے جو وہ ہمیں براہِ راست نہیں سن سکتا ہے؟

اور کیا اللہ (نعوذ باللہ) اندھا ہے جو وہ ہمیں براہ راست نہیں دیکھ سکتا ہے؟

اور پھر قران کی وہ آیت نقل کرتے ہیں جس میں اللہ کہہ رہا ہے کہ وہ انسان کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے

وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ
(القران 50:16) (اللہ کہہ رہا ہے) اور ہم اس (انسان) کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں۔
اور دوسری یہ آیت پیش کرتے ہیں:

وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُواْ لِي وَلْيُؤْمِنُواْ بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ
(القران 2:186) جب میرے بندے تم سے میرے متعلق پوچھیں تو بیشک میں ان کے بہت قریب ہوں۔ میں ہر پکارنے والے کی پکار کو سنتا ہوں جب وہ مجھے پکارے۔

اِن آیات کو بنیاد بنا کر اہلحدیث حضرات یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اللہ نے اپنے اور بندے کے درمیان رابطہ کی کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی ہے۔۔۔۔ تو پھر کسی دوسرے کی طرف کیوں دیکھا جائے؟؟

ہمارا جواب:
اہلحدیث حضرات قران و حدیث کے صرف ایک حصے کو لیکر اپنے عقائد کو ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور دوسرے حصے کو انہوں نے مکمل طور پر ٹھکرایا ہوا ہے اور کسی طرح راضی نہیں ہیں کہ اُس سے بھی ہدایت حاصل کریں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ قران و سنت اس حوالے سے کیا کہہ رہے ہیں۔

اللہ اپنے رسول ﷺ کو اپنے اور اپنی مخلوق کے درمیان شامل کرنا چاہتا ہے، جبکہ اہلحدیث رسول ﷺ کو درمیان سے نکال دینا چاہتے ہیں

اللہ تعالیٰ قران میں فرماتا ہے:

وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذ ظَّلَمُواْ أَنفُسَهُمْ جَآؤُوكَ فَاسْتَغْفَرُواْ اللّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُواْ اللّهَ تَوَّابًا رَّحِيمًا
(القران 6:64) اور کاش جب ان لوگوں نے اپنے نفس پر ظلم کیا تھا تو اگر وہ آپ کے پاس آ جاتے اور اپنے گناہوں کے لئے استغفار کرتے اور پھر رسول بھی ان کے حق میں استغفار کرتا تو یہ خدا کو بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا اور مہربان پاتے۔

تمام مفسرین (بشمول اہلحدیث) اس بات پر متفق ہیں کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب کچھ صحابہ نے بہت ہی سنگین غلطی کی تھی۔ بعد میں انہیں اپنی اس غلطی کا احساس ہوا اور انہوں نے چاہا کہ اس کی توبہ کریں۔
اور انہوں نے اللہ اسے براہ راست اپنے گناہ کی توبہ چاہی، مگر اللہ نے انہیں معاف نہیں کیا بلکہ غور سے دیکھیں کہ اللہ انہیں کیا جواب دے رہا ہے:

اللہ نے ان کی معافی کی براہِ راست درخواست کر رد کر دیا۔

اور پھر اللہ نے انہیں حکم دیا کہ وہ پہلے رسول ﷺ کے پاس جائیں اور پھر اللہ سے استغفار کریں۔

اور آخری شرط یہ رکھی کہ وہ رسول ﷺ سے بھی درخواست کریں کہ وہ بھی اللہ سے اُن کے لیے معافی کی درخواست طلب کریں (یعنی ان کے لیے استغفار کریں)۔

اللہ نے اُن صحابہ کو بتا دیا اگر وہ ان تین مراحل پر عمل کریں گے (یعنی رسول ﷺ کو بھی اپنی توبہ کی درخواست میں شامل کریں گے) تو صرف اور صرف اس کے بعد ہی وہ اللہ کو بہت بخشنے والا اور مہربان پائیں گے۔
اب اس سلسلے میں مندرجہ ذیل سوالات اٹھتے ہیں:

توبہ اور معاف کر دینے کا یہ معاملہ اللہ اور اُن صحابہ کے درمیان تھا (یعنی غلطی صحابہ نے کی، اور معاف کرنے والا اللہ ہے)۔
تو پھر اللہ نے رسول ﷺ کو (کہ جن کی حیثیت اس معاملے میں کی ہے) اس میں اس حد تک کیوں شامل کیا کہ صرف اُن کی شمولیت کے بعد ہی معافی ملے گی؟

کیا اللہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ کسی کو معاف کرنے کے لیے رسول ﷺ کی استغار پر انحصار کرے؟ کیا وہ رسول ﷺ کو شامل کیے بغیر معاف کرنے کی طاقت نہیں رکھتا؟
اگر رکھتا ہے (اور یقیناً رکھتا ہے) تو پھر اِن صحابہ نے براہ راست اللہ سے معافی کیوں نہ مانگ لی اور اللہ نے انہیں براہِ راست ہی معاف کیوں نہیں کر دیا؟

اللہ اپنے رسول ﷺ سےکہہ رہا ہے کہ وہ دوسروں کے لیے استغفار کریں۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ اپنے رسول ﷺ پر یہ زائد ذمہ داری کیوں لگا رہا ہے؟ یعنی یہ غلطی رسول ﷺ نے تو نہیں کی تھی، تو پھر رسول ﷺ پر دوسروں کے گناہوں کے استغفار کا یہ زائد بوجھ کیوں؟

یاد رکھیں کہ اہلحدیث حضرات کا بہانہ یہ ہوتا ہے کہ اس معاملے میں رسول ﷺ کو اس لیے شامل کیا گیا کیونکہ اُن صحابہ (یا صحابی) نے رسول ﷺ کے فیصلے کو نہیں مانا تھا اور اس لیے انہیں حکم دیا گیا کہ وہ رسول ﷺ کے پاس جائیں۔
مگر یہ محض ایک بہانہ ہے۔ اگر اُن صحابہ (یا صحابی) نے رسول ﷺ کے فیصلے کو نہیں مانا تھا تو انکو (یا اُس صحابی کو) رسول ﷺ سے معافی مانگنی چاھیئے تھی اور رسول ﷺ کو چاہئے تھا کہ انہیں معاف کر دیں۔
مگر یہاں تو اللہ اپنے رسول ﷺ سے کہہ رہا ہے کہ رسول ﷺ خود معاف کر دینے کی بجائے اُن صحابہ (یا صحابی) کے لیے اللہ سے استغفار کریں اور خود معاف کر دینے میں اور اللہ سے استغفار کرنے میں بہت فرق ہے جو اہلحدیث حضرات اپنے بھونڈے عقائد کی وجہ سے نہیں دیکھ پا رہے۔
اور اِن کے اس بہانے کا پول اس بات سے بھی کھل جاتا ہے کہ یہ واحد جگہ نہیں ہے جب اللہ نے اپنے رسول ﷺ کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنی امت کے گنہگاروں کے لیے استغفار کریں، بلکہ قران میں اللہ بار بار یہ فریضہ اپنے رسول ﷺ کے سپرد کر رہا ہے کہ وہ اپنی امت کے لیے استغفار کریں۔

(القران ) ۔۔۔۔۔(اے رسول) ان کے لئے استغفار کرو اور ان سے امر جنگ میں مشورہ کرو۔۔۔۔
(القران ) آپ ان کے لئے استغفار کریں یا نہ کریں -اگر ستر ّمرتبہ بھی استغفار کریں گے تو خدا انہیں بخشنے والا نہیں ہے اس لئے کہ انہوں نے اللہ اور رسول کا انکار کیا ہے اور خدا فاسق قوم کو ہدایت نہیں دیتا ہے ۔ ۔ ۔ اور خبردار ان میں سے کوئی مر بھی جائے تو اس کی نماز جنازہ نہ پڑھئے گا اور اس کی قبر پر کھڑے بھی نہ ہوئیے

یہ آیت کفار کے لئے ہے کہ اے رسول ﷺ آپ ان کے لئے دعا کریں یا نہ کریں، اللہ انہیں بخشنے والا نہیں۔ مگر اہلحدیث حضرات اس آیت کو مسلمانوں پر چسپاں کر رہے ہوتے ہیں۔

(القران ) اور اللہ سے (ان لوگوں کے لئے) استغفار کیجئے کہ اللہ بڑا غفور و رحیم ہے۔ اور خبردار جو لوگ خود اپنے نفس سے خیانت کرتے ہیں ان کی طرف سے دفاع نہ کیجئے گا کہ خدا خیانت کار مجرموں کو ہرگز دوست نہیں رکھتا ہے
(القران ) پیغمبر آپ ان کے اموال میں سے زکوۃ لے لیجئے کہ اس کے ذریعہ یہ پاک و پاکیزہ ہوجائیں اور انہیں دعائیں دیجئے کہ آپ کی دعا ان کے لئے تسکین قلب کا باعث ہوگی
(القران ) نبی اور صاحبانِ ایمان کی شان یہ نہیں ہے کہ وہ مشرکین کے حق میں استغفار کریں
(القران ) وہی اللہ اور رسول پر ایمان رکھتے ہیں لہذا جب آپ سے کسی خاص حالت کے لئے اجازت طلب کریں تو آپ جس کو چاہیں اجازت دے دیں اور ان کے حق میں اللہ سے استغفار بھی کریں کہ اللہ بڑا غفور اور رحیم ہے
(القران 47:19) تو یہ سمجھ لو کہ اللہ کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے اور اپنے اور ایماندار مردوں اور عورتوں کے لئے استغفار کرتے رہو کہ اللہ تمہارے چلنے پھرنے اور ٹہرنے سے خوب باخبر ہے
(القران ) تو آپ ان سے بیعت کا معاملہ کرلیں اور ان کے حق میں استغفار کریں
(القران 63:5 اور 63:6) اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ رسول اللہ تمہارے حق میں استغفار کریں گے تو سر پھرا لیتے ہیں اور تم دیکھو گے کہ استکبار کی بنا پر منہ بھی موڑ لیتے ہیں۔ ان کے لئے سب برابر ہے چاہے آپ استغفار کریں یا نہ کریں خدا انہیں بخشنے والا نہیں ہے۔

بیشک اللہ کو اس بات میں رسول ﷺ کے استغفار کی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ وہ امتِ مسلمہ کو بخشے۔ مگر اللہ پھر بھی قران میں بار بار رسول ﷺ کو استغفار کرنے کا حکم اسی لیے دے رہا ہے کہ ہم سمجھیں کہ رسول ﷺ کو اپنا وسیلہ بنانا ہماری دعاؤوں کی قبولیت کے لیے کتنا اہم ہے۔
کئی سو احادیث موجود ہیں جو ثابت کرتی ہیں کہ صحابہ براہ راست اللہ سے مانگنے کے بجائے، رسول ﷺ کے وسلیے سے مانگا کرتے تھے
پچھلے باب میں ہم نے ایسی بے تحاشہ احادیث بیان کیں ہیں۔ اس لیے اختصار سے کام لیتے ہوئے ہم یہاں صرف دو احادیث نقل کرنے پر اکتفا کر رہے ہیں:

صحیح مسلم اللباس والزينة تحريم استعمال إناء الذهب والفضة على الرجال والنساء 3855
حدثنا ‏ ‏يحيى بن يحيى ‏ ‏أخبرنا ‏ ‏خالد بن عبد الله ‏ ‏عن ‏ ‏عبد الملك ‏ ‏عن ‏ ‏عبد الله ‏ ‏مولى ‏ ‏أسماء بنت أبي بكر ‏ ‏وكان خال ولد ‏‏ عطاء ‏ ‏قال ‏ ‏أرسلتني ‏ ‏أسماء ‏ ‏إلى ‏ ‏عبد الله بن عمر ‏ ‏فقالت بلغني أنك تحرم أشياء ثلاثة ‏ ‏العلم ‏ ‏في الثوب ‏ ‏وميثرة ‏ ‏الأرجوان ‏ ‏وصوم رجب كله فقال لي ‏ ‏عبد الله ‏ ‏أما ما ذكرت من رجب فكيف بمن يصوم الأبد وأما ما ذكرت من ‏ ‏العلم ‏ ‏في الثوب ‏ فإني سمعت ‏‏ عمر بن الخطاب ‏ ‏يقول سمعت رسول الله ‏ ‏صلى الله عليه وسلم ‏ ‏يقول ‏ ‏إنما يلبس الحرير من ‏ ‏لا خلاق له ‏ ‏فخفت أن يكون ‏ ‏العلم ‏ ‏منه وأما ‏ ‏ميثرة ‏ ‏الأرجوان ‏ ‏فهذه ‏ ‏ميثرة ‏ ‏عبد الله ‏ ‏فإذا هي ‏ ‏أرجوان ‏ ‏فرجعت إلى ‏ ‏أسماء ‏ ‏فخبرتها فقالت هذه ‏‏ جبة ‏ ‏رسول الله ‏ ‏صلى الله عليه وسلم ‏ ‏فأخرجت إلي ‏‏ جبة ‏ ‏طيالسة ‏ ‏كسروانية ‏ ‏لها ‏ ‏لبنة ‏ ‏ديباج ‏ ‏وفرجيها مكفوفين ‏ ‏بالديباج ‏ ‏فقالت هذه كانت عند ‏ ‏عائشة ‏ ‏حتى قبضت فلما قبضت قبضتها وكان النبي ‏ ‏صلى الله عليه وسلم ‏ ‏يلبسها فنحن نغسلها للمرضى ‏ ‏يستشفى بها
حضرت اسماء کے مولیٰ عبداللہ سے روایت ہے کہ حضرت اسماء بنت ابی بکر نے کسروانی طیلسان کا جبہ نکالا جس کے گریبان اور چاکوں پر ریشم کا کپڑا لگا ہوا تھا۔ کہنے لگیں: یہ حضرت عائشہ کے پاس تھا۔ جب وہ فوت ہوئیں تو یہ جبہ میرے قبضے میں آ گیا۔ نبی کریم ﷺ اس کو پہنتے تھے۔ اور اب ہم بیماروں کہ لیے اس کو دھوتے ہیں اور اس کے ذریعے بیماروں کے لیے شفاء طلب کرتے ہیں۔

اب ذرا ان حقائق پر توجہ فرمائیے:

بیشک اللہ ہماری شہ رگ سے بھی زیادہ ہمارے قریب ہے۔ مگر پھر حضرت عائشہ اور اسماء بنت ابی بکر نے بجائے اس کُرتے کے براہِ راست اللہ سے کیوں نہیں شفا مانگ لی؟

کیا یہ دونوں خواتین یہ سمجھتی تھیں کہ اللہ (نعوذ بااللہ)بہرا ہے اور وہ اُن کی پکار کو براہِ راست سننے سے قاصر ہے؟


اسی طرح ام المومنین حضرت سلمہ (ر) سے روایت ہے :

ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا کہا ہم سے اسرائیل نے، انہوں نے سلیمان بن عبدااللہ وہب سے کہا مجھ کو میرے گھر والوں نے ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک پیالی پانی کی دے کر بھجوایا، اسرائیل راوی نے تین انگلیاں بند کر لیں۔ یہ پیالی چاندی کی تھی۔ اس میں آنحضرتﷺ کے کچھ بال ڈال دئے گئے۔ عثمان نے کہا کہ جب کسی شخص کو نظرِ بد لگ جاتی تھی یا اور کوئی بیماری ہوتی تو وہ اپنا کنگھال (برتن) پانی کا بی بی ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجتا۔ عثمان نے کہا میں نے اس کو جھانک کر دیکھا تو سرخ سرخ بال دکھائی دئیے۔
صحیح بخاری، کتاب اللباس، ج 3 ص 399 ، ترجمہ از اہلحدیث عالم، مولانا وحید الزمان

اب ہم اپنی طرف سے مزید کوئی تبصرہ نہیں پیش کر رہے۔ مگر پڑھنے والوں سے درخواست ہے کہ وہ اُن تمام احادیث کو پڑھیں جو کہ پچھلے ابواب میں گذر چکی ہیں جو یہ بیان کر رہی ہیں کہ صحابہ کرام رسول ﷺ کے وسلیے سے مانگا کرتے تھے۔

چیلنج کہ رسول ﷺ اہلحدیث نہیں تھے

اوپر بیان کی گئی آیات کی وجہ سے یہ صحابہ کرام کی مستقل عادت تھی کہ وہ رسول ﷺ کے پاس آتے تھے اور آپ ﷺ سے اپنے لیے دعا کی درخواست کیا کرتے تھے۔
یہ ہمارا چیلنج ہے کہ رسول ﷺ اہلحدیث نہیں تھے ورنہ بجائے صحابہ کے لیے دعا کرنے کے وہ ان سے کہتے:

مجھے اپنے اور اللہ کے درمیان کیوں ایسے وسیلہ بناتے ہو جیسا کہ کفار اپنے بتوں کو وسیلہ بنایا کرتے تھے؟

اور تمہیں کوئی ضرورت نہیں ہے کہ مجھ سے درخواست کرو کہ میں تمہاری درخواست اللہ تک پہنچاؤں کیونکہ اللہ ہر ہر بندے کی پکار کو خود سن سکتا ہے کیونکہ وہ شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔

میرے پاس سے چلے جاؤ اور جا کر اللہ سے براہ راست دعا مانگ لو۔

مگر ان تمام باتوں کے برعکس، رسول تو صحابہ کی مزید حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ آ آ کر اُن ﷺ سے اپنے حق میں دعا کروایا کریں۔

حضرت موسی علیہ السلام بھی اہلحدیث نہیں تھے

اللہ قران میں فرماتا ہے:

وَقَطَّعْنَاهُمُ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ أَسْبَاطًا أُمَمًا وَأَوْحَيْنَا إِلَى مُوسَى إِذِ اسْتَسْقَاهُ قَوْمُهُ أَنِ اضْرِب بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ فَانبَجَسَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَيْنًا قَدْ عَلِمَ كُلُّ أُنَاسٍ مَّشْرَبَهُمْ وَظَلَّلْنَا عَلَيْهِمُ الْغَمَامَ وَأَنزَلْنَا عَلَيْهِمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوَى كُلُواْ مِن طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَمَا ظَلَمُونَا وَلَـكِن كَانُواْ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ
(القران 7:160) اور (ہم نے) موسٰی علیہ السلام کی طرف وحی کی جب ان کی قوم نے پانی مانگا کہ زمین پر عصا ماردو -انہوں نے عصا ماراتو بارہ چشمے جاری ہوگئے ۔ ۔ ۔ ا اور ہم نے ان کے سروں پر ابر کا سایہ کیااور ان پر من و سلوٰی جیسی نعمت نازل کی

تو جب قوم نے موسیٰ علیہ السلام سے پانی مانگا تو کیا آپ(علیہ السلام) نے اپنی امت کو یہ کہا کہ:

اے قوم والو! تم اللہ کی بجائے مجھ سے پانی مانگ کر مشرک ہو گئے ہو۔ اور تمہیں چاہئے تھا کہ اللہ سے براہِ راست پانی مانگتے۔

اور پھر اللہ اس مشرکانہ فعل پر کیوں خاموش رہتا ہے اور ان کو اس پر ڈراتا دھمکاتا کیوں نہیں ہے؟ بلکہ اس کے برعکس اللہ اُن پر من و سلویٰ نازل فرماتا ہے اور اپنی رحمت نازل کرتا ہے۔


نبی یعقوب علیہ السلام بھی اہلحدیث نہیں تھے

اللہ قران میں فرما رہا ہے:

قَالُواْ يَا أَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا إِنَّا كُنَّا خَاطِئِينَ
قَالَ سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّيَ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ
(القران 12:97 اور 12:98) ان لوگوں نے کہا بابا جان اب آپ ہمارے گناہوں کے لئے استغفار کریں ہم یقینا خطاکار تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں عنقریب تمہارے حق میں استغفار کروں گا کہ میرا پروردگار بہت بخشنے والا اور مہربان ہے

اگر نبی یعقوب علیہ السلام اہلحدیث ہوتے تو وہ اپنے بیٹوں کو کہتے کہ وہ اُن کے پاس کیوں آئیں ہیں۔ انہیں چاہئے کہ وہ جا کر اللہ سے براہِ راست اپنے گناہوں کی معافی مانگیں۔

اور اللہ بھی اہلحدیث نہیں ہے کیونکہ اگر وہ اہلحدیث ہوتا تو بجائے معاف کرنے کے حضرت یعقوب(علیہ السلام) اور اُن کے بیٹوں سے دگنا ناراض ہو جاتا کہ گناہ کرنے کے ساتھ ساتھ وہ شرک بھی کر رہے ہیں۔


اہلحدیث عقیدہ بالمقابل شیعہ/سنی عقیدہ

ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ بیشک اللہ ہماری شہ رگ سے بھی زیادہ ہمارے قریب ہے، اور اس کی قدرت میں تمام تر طاقت ہے کہ وہ ہماری پکار کو براہِ راست سنے اور ہماری دعاؤوں کو قبول کرے۔ اور اس میں کوئی حرج نہیں ہے اگر اللہ سے براہ راست مانگا جائے اور بیشک یہ عین حلال عمل ہے اور مانگنے کی کوئی بھی صورت ہو، ہم اصل میں اللہ سے ہی مانگ رہے ہوتے ہیں۔
مگر ہم یہ بھی یقین رکھتے ہیں کہ اگر رسول ﷺ کی شفاعت (یعنی دعا) بھی ہماری دعاؤوں میں شامل ہو جائے تو یہ اللہ سے مانگنے کا بہترین طریقہ ہے۔ اور اسکا مکمل ثبوت قران اور حدیث میں موجود ہے۔
یہ ایسا ہی ہے کہ جیسے اللہ ہماری دعاؤوں کو اُس وقت بھی سنتا ہے جب ہم اپنے گھروں میں دعا کرتے ہیں۔ مگر اگر یہی دعا ہم خانہ کعبہ میں جا کر کریں تو مسجد الحرام کی برکت بھی ہماری دعاؤوں میں شامل ہو جاتی ہے اور ہماری دعاؤوں کے قبول ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
اگر اہلحدیث حضرات شرک کے نام پر آج اس بہترین اور حلال عمل کو حرام کر کے نئی شریعت جاری کرنا چاہتے ہیں، تو ہم اس گمراہ کُن بدعت کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔
یہ اللہ کا اپنے رسول ﷺ سے وعدہ ہے کہ اُس نے اپنے ساتھ ساتھ محمد ﷺ کا ذکر بھی بلند کیا ہے۔ چنانچہ قران میں اللہ فرماتا ہے:

وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ
(القران 94:4) (اے رسول) ہم نے تمہارا ذکر بلند کیا ہے

اہلحدیث حضرات کے رویے کے برعکس (یعنی جب وہ قران و سنت کے اِس ایک حصے کو ٹھکرا دیتے ہیں کیونکہ یہ انکے خود ساختہ عقائد کے خلاف جاتا ہے)، ہم دین کے معاملے میں اپنی عقل سے کسی چیز کو حرام نہیں قرار دیتے، بلکہ پورے قران اور پوری سنت سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ اور رسولﷺ کے جس ذکر کو یہ کم کرنا چاہتے ہیں، اللہ نے توفیق عطا فرمائی تو ہم اسے کم نہ ہونے دیں گے۔ انشاء اللہ۔
چنانچہ ہم شرک اور بدعت کے نام پر کسی ایسی چیز کو حرام نہیں کرتے جو کہ اللہ نے ہمارے لئے حلال قرار دی ہے۔ اللہ قران میں فرماتا ہے:

قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللّهِ الَّتِيَ أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ وَالْطَّيِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ قُلْ هِي لِلَّذِينَ آمَنُواْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا خَالِصَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَذَلِكَ نُفَصِّلُ الآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ
(القران 7:32) پیغمبر آپ پوچھئے کہ کس نے اس زینت کو جس کو خدا نے اپنے بندوں کے لئے پیدا کیا ہے اور پاکیزہ رزق کو حرام کردیا ہے ۔ ۔ ۔ ۔

اللہ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم اسکی دی ہوئی پوری ہدایت پر عمل کریں اور اس کی دی ہوئی نعمتوں کو صرف اس لئے نہ حرام قرار دیں کیونکہ وہ ہماری خواہشات کے خلاف جاتی ہیں۔
اللہ محمد و آلِ محمد اور آپ سب پر اپنی رحمتیں اور برکتیں نازل فرمائے۔ اٰمین۔
Hanibal
Janab app kafi ba ilm shakhsiyat maloom hotay hain,

mehrbani kr kay yeh bata dain kay quran nay jab bhi hamay Allah tala say mughfirat ya hajit rawai ka kaha tu kya uss kay saath saath yeh bhi kaha kay hamesha kisi na kisi waseelay say mangain?

buhat nawazish hogee agr app apnay comments ko sahi sahi ayaat kay zariya back up ker sakain.
Hanibal
hairat key baat hay kay buhat say logoon kay sawaloon kay jawab app nay nahi diya, aur phir eak aur topic post kernay ka time bhi app nay nikaal liya! aur ab shayad app phir say exams ka bahana bana ker idher udher nikalnay key koshish karain. app meray above sawal kay jawab main keh saktay hain kay "Bhai, main nay app say pehlay bhi kaha tha kay meray Exams honay walay hain iss liya main jawab post nahi ker sakta, yeh post tu just for fun hay".
shehzada salman
QUOTE(Hanibal @ Jun 24 2008, 12:54 PM) *
Janab app kafi ba ilm shakhsiyat maloom hotay hain,

mehrbani kr kay yeh bata dain kay quran nay jab bhi hamay Allah tala say mughfirat ya hajit rawai ka kaha tu kya uss kay saath saath yeh bhi kaha kay hamesha kisi na kisi waseelay say mangain?

buhat nawazish hogee agr app apnay comments ko sahi sahi ayaat kay zariya back up ker sakain.



ji main bhi yehi kehta hon isiliye main ne kisi sahi bukhari kitab se wasta nahi rakha
ap bhi mat rakhain

POST parhain dehan say ji
Hanibal
QUOTE(shehzada salman @ Jun 24 2008, 01:54 PM) *
ji main bhi yehi kehta hon isiliye main ne kisi sahi bukhari kitab se wasta nahi rakha
ap bhi mat rakhain

POST parhain dehan say ji

Bhai sahib mein nay tu post parh ker hi reply kya tha, shayad app nay baghair parhay post kr dee hay ( jaisay kay app key aadat hay)

anyways jin qurani ayaat ko app hela bana rahay hain un main tu waseela directly baat ker raha hay, jaisay kay Hazrat Yaqoob apnay baitoon ko keh rahay hain,


mein tu app say is waseelay key baat kr raha hoon, kay ju iss duniya say intayqaal ker gey hain, un kay baray main Allah tala nay kahaan per kaha hay kay unhay waseela bana ker mango, kindly idher udher key mat choriyee ga, qabroon walay topic mein bhi app bhaag kharay howay thay, aur eak aur topic mein bi app nay imtayhanoon ka bahana bana liya tha, ab jab kay topic app nay khud shoro kiya hay tu jawab tu dain gey hi, waisay lagta nahi kay app say jawab ban paye ga.
shehzada salman
hanibal sahab
chalain to ap ne post ka SUBJECT maan liya
boht shukriya
Hanibal
QUOTE(shehzada salman @ Jun 24 2008, 03:34 PM) *
hanibal sahab
chalain to ap ne post ka SUBJECT maan liya
boht shukriya

main nay mana ya nahi, thats is different issue, app kahaan bhag liya, Kabhi tu kisi jagaah per dat per baat karain, ya app apnay islaaf kay rivyaat say majboor hain kay jab tak kay her maidan say bhagna hi sab say behter strategy hay, meray khayal say eak aur qom jis yehi strategy thee aur ab bhi hay woh hay qom-e-yahood. kitni cheezain mushtarik hain na app dono main, lagta hay eak hi tree key shakhain hein.
Namaaz_Deen_Ka_Sutoon_Hei
QUOTE(shehzada salman @ Jun 24 2008, 12:07 PM) *

وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذ ظَّلَمُواْ أَنفُسَهُمْ جَآؤُوكَ فَاسْتَغْفَرُواْ اللّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُواْ اللّهَ تَوَّابًا رَّحِيمًا
(القران 6:64) اور کاش جب ان لوگوں نے اپنے نفس پر ظلم کیا تھا تو اگر وہ آپ کے پاس آ جاتے اور اپنے گناہوں کے لئے استغفار کرتے اور پھر رسول بھی ان کے حق میں استغفار کرتا تو یہ خدا کو بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا اور مہربان پاتے۔



Asslamualikum Musalmanon

Shahzada Bhai Sub Se Pehle Ye khenaa Chahoongga K Apnaa Hawala Sahee Dein Ye Hawal Sahee nahin... Jahaan Tuck Maira Ilm Hei...

Is Aiyat main Ye Cheez Wazeh Ho Rahee Hei K Woh Suahaba Mohmmad(SAW) K pass Aate aur apnain Gunahoon ki Allah Tala Se Mouafee Mangte Aur Mohmmad (SAW) Bhi Un K Haque Main DUa karte ...... To Behter Hotaa......

Aap Ahlulhadees ko target banaa rahein hein to main ye cheez wazeh kar doon k Suahaba Bhi Ahlulhadees the.... sawal uthtaa hei k se....
To Woh Kissi BHi masle Main Quran Aur Hadith Se Madad Leite The..... AUr Jo Qur'an Aur Hadith Pe Amal Karta Hei Woh Ahlul Hadith hei ye cheez to maloom hogi.. aap ko..!
Rahee Bat Mohmmad (SAW) Se Duaa Karnain Ki To Woh Us Waqt Mojood The Aur Aaj Woh HUmare Darmiyaan Mojood nahin IslYein Aur Wesse Bhi Hadith Main Ataa Hei K Kissi Naik Bandde Se Jo ZIndda Ho Us Se Dua Kar Wa Sukte Hien Mager Kissi Murde Ka Waseela Nahin De Sukte Is Lyein Quraan Bohat Si Jaga Kehta Hei Chand Aiyate Mubraka Pesh Kartaa hoon.......

[Aap (SWAW) Keh Dijye K Naa To Main Tum Se Ye Kheta hoon K Maire pass Alla K Khazanein hein Aur Naa Mein Ghaib Jantta Hoon Aur Na Main Tum Se Ye Kehta Hoon k Main Farishtaa Hoon. Main To Sirf Jo Kuch Maire Pass Wohi Aati Hei Is Ka Itbaa Karta Hoon Aap Kaye K Undhaa Aur Beena Kahieen Braber Ho Suktaa Hei So Kiya Ghore Nahin Karte?{Surah Al Inaam Aiyat # 50}]


[ Aap (SWAW) Farmaa Dijye K Main Khud Apni Zaat Khas K Lyain Kissi Nafa Ka Ikhteaar Nahin Rakhtaa Aur Naa Kisi Zarer Ka Mager itnaa Hi K itnaa Allah Nain Chahaa Ho AUr Ager Main ghaib Ki Batein Jantta To Main Bohat Ziyada Mnafaa Hassil karleitaa AUr Koi Nuqsaan Mujhe Ko Na Ponhchtaa Main To Mahazz Dranain Wala Aur Basharat Denain Wala Hoon In Logon Ko Jo Iymaan rakhte Hein.{Surah Al Airaaf Aiyat # 188}]

[Keh Dijye K Aasmaan Walon Main Se Zameen Walon Main Se Siwaai Allah K koi Ghaib Nahin Janttta, Unhein To ye Nahin Maloom K Kub Uthaa Khade Kiye Jaingge?{Surah Al Namal Aiyat # 65}]

[Keh Dijye K Mujhe Tumhare Kissi Nuqsan Naafei Ka Ikhteaar Nahin.{Surah Al Jinn Aiyat # 21}]


[Aap Jisse Chahein Hidaiyat Nahin Karsukte Balke Allah Talaa Hi Jisse Cha Hei hidiyat Kartaa Hei hidiyat Walon Se Wohhi Khuoob Aagah Hei.{Surah Al Qasas Aiyat # 56}]


[Bhlaa Jiss Shakhs Per Azaab Ki Baat Sabit Ho Chuki Hai, To Kiyaa Aap Isse jo Dozakh Main Hai Chadaa Sukte Hei.{Surah Al Zamer Aiyat # 19}]


[Pass Aap Nasiyhat Kar Diyaa Karein (Kyun K ) Aap Sirf Nasiyhat Karnain Wale Hein.{Surah Al Ghashiyaa Aiyat # 21}]


[Keh Dijye K Allah K Siwaa Jin Jin Ka Tumhain Gumaan Hai(Sub) Ko Pukaar Lo Na In MainSe Kissi Ka Aasmaan Aur Zameen Main 1 Zarrah Ikhteaar Hei Na In Main Koi Hissa Hai Na In Main Se Koi Allah ka Madad Gaar Hei.{Surah Sabaa Aiyat # 22}]


Is lyein Humein Sirf Allah(SWT) ko Hi Pukarnaa Chahye Wesse Such Kahoon To Aap Nain Time Zayaa kara Hei Ye Post Add kar K Kyun K Ye Koi Bat Nahin hei Is lYein Humain Ziyada Kitabein Datolnain Ki Zaroorat Nahin Humain Sirf Quran Majeed Hi Deakhlenaa Tha To Humain Ilm Ho Jata Is Main Saf Saf Hei K Allah Azwa Jal Ko Live Pukraa Jaai Shukriyaa........

Karorho Salaam Hon Mohmmad Mujtaba (SAW) Pe Jinhon Nain Hum Ko Deen Ka Sahe Rukh DIkhaya Mager Kiya Hum Un K Naqshei Qadum Pe Chalnain Ko Tayyar Hein Maire KHayaal Se Nahin......... Humain SIrf Behess karni Hei Yehaan AUr Kuch Nahin Hum K Se Maan Lein K Samnain Wala Sahee Hei Hei Naan Ye hI Hei Sub k Dilon Main HUmain Kissi Bat Ka Wazan Ager Maloom Karnaa Hei To WoH Is Tarhaan Karnaa Hei K Ye Check Kar K...K Us kI Baat Allah (SWT) yani Quran K Mutabique Hei ya Phirr Mohmmad(SAW) Ki Sahee Hadith K mutabique Humain Manghadat Riwayat Ko Apnaa Deen Nahin Sumajhnaa Chahye Jo Batein Hum Nain Aur Jo Karamaat Hum nain Wali Allah Se Munsib Kar Rakhein Hein Woh Bhi SUb Allah Tala hi Ki Wajhaa Se Hote Hein Aur madad Bhi Sirf Allah (SWT) Se hi Mangi Ja Sukti Hei Baqee Sare Nabee TO HUmaree Tarhaan Insaan The Aur Allah Tala Nain HUmare Lyein Humare Istlaah k Lyein Mohmmad(SAW) Ki Khass Seerat Ko Humare lyein Aur Humaree Taleem K lyein Munsib Farmaya Aur HUmain Bataa DIyee K Un ki Atat Hi Mairi Yani K Allah(SWT) Ki Atat Hei Aur Be Shuck Koi Sahee Hadith Quran K Khilaaf Nahin Aur Quran Ki Aiyat Sahee Hadith K KHilaaf Nahin AUr Hadith Ko ToWOh Log Maneingge Jo un Hadith k Kehnain WaloN ko Sahee SUmjhein Kuch Log To Un Kehnain Walon Ko Hi Sahee Nahin Sumajhte AUr ye hi In Ki Wajah Hei K ye Log Kissi Hadith Ko Nhain mantte ..... Kehnaa To Bohat Hei Mager Time Bohat Kum Hei ..... Shukriyaa


Asslamualikum Warehamtulalh Waberkathao


Kiya Allah(SWT) Humare Lyein Kafee Nahin.....?
Maire Lyein Allah(SWT) Hi Kafee Hein............! number1.gif
shehzada salman
QUOTE(Namaaz_Deen_Ka_Sutoon_Hei @ Jun 25 2008, 09:36 AM) *
Allah(SWT)mere liyen Kafee Hein............!


ab pesh e khidmat hay larger fonts main

اہلحدیث عقیدہ بالمقابل شیعہ/سنی عقیدہ

ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ بیشک اللہ ہماری شہ رگ سے بھی زیادہ ہمارے قریب ہے، اور اس کی قدرت میں تمام تر طاقت ہے کہ وہ ہماری پکار کو براہِ راست سنے اور ہماری دعاؤوں کو قبول کرے۔ اور اس میں کوئی حرج نہیں ہے اگر اللہ سے براہ راست مانگا جائے اور بیشک یہ عین حلال عمل ہے اور مانگنے کی کوئی بھی صورت ہو، ہم اصل میں اللہ سے ہی مانگ رہے ہوتے ہیں۔
مگر ہم یہ بھی یقین رکھتے ہیں کہ اگر رسول ﷺ کی شفاعت (یعنی دعا) بھی ہماری دعاؤوں میں شامل ہو جائے تو یہ اللہ سے مانگنے کا بہترین طریقہ ہے۔ اور اسکا مکمل ثبوت قران اور حدیث میں موجود ہے۔
یہ ایسا ہی ہے کہ جیسے اللہ ہماری دعاؤوں کو اُس وقت بھی سنتا ہے جب ہم اپنے گھروں میں دعا کرتے ہیں۔ مگر اگر یہی دعا ہم خانہ کعبہ میں جا کر کریں تو مسجد الحرام کی برکت بھی ہماری دعاؤوں میں شامل ہو جاتی ہے اور ہماری دعاؤوں کے قبول ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
اگر اہلحدیث حضرات شرک کے نام پر آج اس بہترین اور حلال عمل کو حرام کر کے نئی شریعت جاری کرنا چاہتے ہیں، تو ہم اس گمراہ کُن بدعت کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔
یہ اللہ کا اپنے رسول ﷺ سے وعدہ ہے کہ اُس نے اپنے ساتھ ساتھ محمد ﷺ کا ذکر بھی بلند کیا ہے۔ چنانچہ قران میں اللہ فرماتا ہے:

وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ
(القران 94:4) (اے رسول) ہم نے تمہارا ذکر بلند کیا ہے

اہلحدیث حضرات کے رویے کے برعکس (یعنی جب وہ قران و سنت کے اِس ایک حصے کو ٹھکرا دیتے ہیں کیونکہ یہ انکے خود ساختہ عقائد کے خلاف جاتا ہے)، ہم دین کے معاملے میں اپنی عقل سے کسی چیز کو حرام نہیں قرار دیتے، بلکہ پورے قران اور پوری سنت سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ اور رسولﷺ کے جس ذکر کو یہ کم کرنا چاہتے ہیں، اللہ نے توفیق عطا فرمائی تو ہم اسے کم نہ ہونے دیں گے۔ انشاء اللہ۔
چنانچہ ہم شرک اور بدعت کے نام پر کسی ایسی چیز کو حرام نہیں کرتے جو کہ اللہ نے ہمارے لئے حلال قرار دی ہے۔ اللہ قران میں فرماتا ہے:

قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللّهِ الَّتِيَ أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ وَالْطَّيِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ قُلْ هِي لِلَّذِينَ آمَنُواْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا خَالِصَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَذَلِكَ نُفَصِّلُ الآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ
(القران 7:32) پیغمبر آپ پوچھئے کہ کس نے اس زینت کو جس کو خدا نے اپنے بندوں کے لئے پیدا کیا ہے اور پاکیزہ رزق کو حرام کردیا ہے ۔ ۔ ۔ ۔
Hanibal
Oh bhai , kya howa, sawaloon kay jawab nahi mil rahay kya, ya her false religion kay preacher key tarah sirf apnay mazhab yani shiaism key tableegh hi ker rahay ho, aur khud bhi nahi jantay kay haqeeqat kya hay.
HulChul
hmmm agher baat waselay ki hy tou Ahlay Sunnat Waljamat Ky Nazdeek Waselay Saay Mangna Jaiz Hy
Namaaz_Deen_Ka_Sutoon_Hei
QUOTE(shehzada salman @ Jun 25 2008, 10:17 PM) *
ab pesh e khidmat hay larger fonts main

اہلحدیث عقیدہ بالمقابل شیعہ/سنی عقیدہ

ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ بیشک اللہ ہماری شہ رگ سے بھی زیادہ ہمارے قریب ہے، اور اس کی قدرت میں تمام تر طاقت ہے کہ وہ ہماری پکار کو براہِ راست سنے اور ہماری دعاؤوں کو قبول کرے۔ اور اس میں کوئی حرج نہیں ہے اگر اللہ سے براہ راست مانگا جائے اور بیشک یہ عین حلال عمل ہے اور مانگنے کی کوئی بھی صورت ہو، ہم اصل میں اللہ سے ہی مانگ رہے ہوتے ہیں۔
مگر ہم یہ بھی یقین رکھتے ہیں کہ اگر رسول ﷺ کی شفاعت (یعنی دعا) بھی ہماری دعاؤوں میں شامل ہو جائے تو یہ اللہ سے مانگنے کا بہترین طریقہ ہے۔ اور اسکا مکمل ثبوت قران اور حدیث میں موجود ہے۔
یہ ایسا ہی ہے کہ جیسے اللہ ہماری دعاؤوں کو اُس وقت بھی سنتا ہے جب ہم اپنے گھروں میں دعا کرتے ہیں۔ مگر اگر یہی دعا ہم خانہ کعبہ میں جا کر کریں تو مسجد الحرام کی برکت بھی ہماری دعاؤوں میں شامل ہو جاتی ہے اور ہماری دعاؤوں کے قبول ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
اگر اہلحدیث حضرات شرک کے نام پر آج اس بہترین اور حلال عمل کو حرام کر کے نئی شریعت جاری کرنا چاہتے ہیں، تو ہم اس گمراہ کُن بدعت کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔
یہ اللہ کا اپنے رسول ﷺ سے وعدہ ہے کہ اُس نے اپنے ساتھ ساتھ محمد ﷺ کا ذکر بھی بلند کیا ہے۔ چنانچہ قران میں اللہ فرماتا ہے:

وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ
(القران 94:4) (اے رسول) ہم نے تمہارا ذکر بلند کیا ہے

اہلحدیث حضرات کے رویے کے برعکس (یعنی جب وہ قران و سنت کے اِس ایک حصے کو ٹھکرا دیتے ہیں کیونکہ یہ انکے خود ساختہ عقائد کے خلاف جاتا ہے)، ہم دین کے معاملے میں اپنی عقل سے کسی چیز کو حرام نہیں قرار دیتے، بلکہ پورے قران اور پوری سنت سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ اور رسولﷺ کے جس ذکر کو یہ کم کرنا چاہتے ہیں، اللہ نے توفیق عطا فرمائی تو ہم اسے کم نہ ہونے دیں گے۔ انشاء اللہ۔
چنانچہ ہم شرک اور بدعت کے نام پر کسی ایسی چیز کو حرام نہیں کرتے جو کہ اللہ نے ہمارے لئے حلال قرار دی ہے۔ اللہ قران میں فرماتا ہے:

قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللّهِ الَّتِيَ أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ وَالْطَّيِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ قُلْ هِي لِلَّذِينَ آمَنُواْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا خَالِصَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَذَلِكَ نُفَصِّلُ الآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ
(القران 7:32) پیغمبر آپ پوچھئے کہ کس نے اس زینت کو جس کو خدا نے اپنے بندوں کے لئے پیدا کیا ہے اور پاکیزہ رزق کو حرام کردیا ہے ۔ ۔ ۔ ۔



Mr. Shia

zara deakh to lein kahaan kahaan i aiyat aap kis topic main harh rahei hein mujhei pata hei aa ko ye hi yaad honggi bus aap mujhei yeb ata dein jitnain bhi nabee ki duaain aain hein un mainkaheen waseela... ye sawaal hei.......?
Adam Alihi Wasslam Se Mohmmad(SAW) tuck jitnain nabee nainduaa mange unhon nain waseeela ad kiya kyun k Mohmmad(SAW) se pehlei bhi bohat se nabee guzar chukei thei..... aur yousof alihi Wasslam apnain baba yaqoob Alihi Wasslam ka waseela bhi dei suktei thei duaaon main maire bhai zara ankhein khol kar quran parho aur mujhei 1 aiyat dikha do Quran se jis main waseela ka lafz istamaal hua hoo aap to bukharee shareef jeisi koi kitaab nahin pakarhtei naan....! ub quran se hi bat karo naan tumhari koi kitaab naan mairi koi kitaab Quran ko to manttei hi hoo naan........? ya Nahin ....? kafee Mushkil Sawaal pooch Liyaa Main Nain Oh Oh....!

UB Quran Se mujhei Sabit kar Waseela Jeissei Humare nabee Nain Dua Mangee Allah s brahei rast hum bhi wessei hi mangeinggein kyun k .......

[A Emaan Walo Allah Ki Farmaa bardari Karo Aur Rasol Ki Farmaa bardari Karo Aur In Logon Ki Jo Tum Main Se Haakim Hon Phirr Ager Apps Main Koi Cheez Main Jhagrhaa Karo To Isse Allah Aur Is K Rasool Ki Taraf Phairo Ager Tum Allah Aur Qaiyamat K Din Per Yaqeen Rakhte Ho Yehi Baat Achi ei Aur Injaam K Lehaaz Se Bohat Behter Hei.{Surah # 4 Al-Nissa Aiyat # 59}]

[Aur Tumhein jo Kuch Rasool Dein, Le lo Aur Jiss Se Rokein, Ruk Jaao,{Surah Al Hasher Aiyat # 7}]

[Jo Loag Hukm e Rasool Ki Mukhalfat Karte Hein Unhein Darte Rehnaa Chahye K Kaheen IN Per koi Zaberdast Aaffat na Aa Padhe, ya Unhein DardNaak Azaab Na pohnchei{Surah Al Noor Aiyat # 23}]

[Yaqeenan Tumhare Lyein Rasool(SAW) Ki Zaat Main Behtreen Namoona Hei, Her Is Shakhs K Lyein Jo Alllah Talaa Ki Aur Qayamat K Din Ki Tawaqqo Rakhtaa Hei Aur Ba Kasrat Allah Taaa Ki Yaad kartaa hei.{Surah Al Ahzaab Aiyat # 21}]



Ji Maire Shia bHai Kyia keithei hein kis nain parwee karni zaroor deen pe itna hi amal karo jitna batya gaya hei ...... na us se ziyada na us se kum......

1 shair parhoongga... ghore farmiaye ga....

Hei Tauheed o Sunnat Aman ka Taeeque..
Fitna e Jang o jadadal taqleed Se Naydaa Na Kar.... (Iqbal)



asim10
is silsilay main aik misal de jatee hay
kay agar kisi baray afasar say milna ho to kiya pehlay chotay afasr say nahin milna parta.to phir allah jaisay hastee say tum kaisay direct mil saktay hoo.
is silsilay mai aik baat araz hay.
agar kisi ko yousuf raza gilani say milna hoo to woh zaroor pehlay kisi na afsar ko dhonday gha kay woh us ke mulakat kisi na kisi tareeqay say gilani sahib say karwa day.
laikin agar asif ali zardari ko bhee gilani sahib say milna hoo to ,kia unhain bhee kisi afasar ko waseela banana ho gha.
ap ko aour sub ka jawab ho gha nahin.kiuon
is leyai kay zaradri sahib gilani sahib ko buhat achee tarha say jantay hain.
bulkay gilani sahib to zardari sahib kay kehnay per hee prime minister banay .
bulkul isi tarha agar to app allah ko jantay hain.app ko pata hay kay allah kaoun hay.aour app ka allah say kisi bhee qisam ka rabata hay to phir app ko kisi afasar ,kisi jannay walay ke zaroorat nahih
bulkay app bhee direct us ke mehfil main chalay ja ain
sirf aik sajda karna paray ghay .aour ap ke allah say baat shoro.
yeh waseelay wastay woh dhondtay hain,jin ka allah say kowee rabta nahin.jis ka us say kowee taluq nahin.
khaiber
Mr. wahabi

ashab e ikram say sabit kar chuka hon
Quran e pak say sabit kar chuka hon "yusuf(as) ka kurta or un k walid(as) ki binayee"
ap tumharay ghar say sabit karta hon wasila

Beshak peda karnay wala Allah hi hay (wo chahta to tumhen asman say tapka nahi saktay thay ??
tumharay maan baap ko wasila Q banaya? wasila is in the nature of Allah subhanahu
asim10
g
abb aiya oont pahar kay neechay
CODE
wasila is in the nature of Allah subhanahu

yeh allah ke sunnat hay kay woh ansanoon ko jo kuchbhee ata karta hay kisi na kisi zareeyai say.
magar jab insaan ke baree atee hay to woh kehta hay .
mujh say maang ,main tairee dua qabool karoon gha.
mujh say talb kar,main tairee mushkil kuchayee karoon gha.
woh insaan say kisi waseela ka nahin bilkay barahay raast mangnay ka takaza karta hay.

khaiber
QUOTE(asim10 @ Jul 31 2008, 04:30 PM) *
g
abb aiya oont pahar kay neechay
CODE
wasila is in the nature of Allah subhanahu

yeh allah ke sunnat hay kay woh ansanoon ko jo kuchbhee ata karta hay kisi na kisi zareeyai say.
magar jab insaan ke baree atee hay to woh kehta hay .
mujh say maang ,main tairee dua qabool karoon gha.
mujh say talb kar,main tairee mushkil kuchayee karoon gha.
woh insaan say kisi waseela ka nahin bilkay barahay raast mangnay ka takaza karta hay.



dekhaiye asim bhai Kitab Allah per hum amal nahi karsaktay jab tak k is kitab mushtehabat ko na pehchan sakain
isiliyen
Allah Tala nay ye kitab ek Rasool(saw) k zariye hum tak ponchayee
phir rasool or al e rasool or rasool allah k sachay sahabiyon nay hamain mil kar amal kar k dikhaya ta k hum kisi bhi ayat k baray main confused na rahain.


وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذ ظَّلَمُواْ أَنفُسَهُمْ جَآؤُوكَ فَاسْتَغْفَرُواْ اللّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُواْ اللّهَ تَوَّابًا رَّحِيمًا
(القران 6:64) اور کاش جب ان لوگوں نے اپنے نفس پر ظلم کیا تھا تو اگر وہ آپ کے پاس آ جاتے اور اپنے گناہوں کے لئے استغفار کرتے اور پھر رسول بھی ان کے حق میں استغفار کرتا تو یہ خدا کو بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا اور مہربان پاتے۔