اس کے علاوہ امریکہ کی قیادت والی فوج کا ایک جوان ہلمند صوبے میں ہلاک ہوا۔
ماضی قریب میں امریکی فوج کا ایک ہی دن میں یہ سب سے زیادہ جانی نقصان ہے۔
ایک امریکی فوجی ترجمان کے مطابق ہلمند میں دو دن سے جاری لڑائی میں کم سے کم چالیس طالبان مارے گئے ہیں۔
افغانستان میں تعینات بین الاقوامی فوج آئسیف کے مطابق کنڑ میں امریکی افواج اور عسکریت پسندوں کے درمیان کئی گھنٹے تک لڑائی جاری رہی۔ لڑائی میں آئسیف کے پندرہ اور افغان فوج کے چار جوان زخمی بھی ہوئے۔
اس برس افغانستان میں ایک سو تینتیس غیر ملکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔
لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب طالبان نے صبح سویرے کنڑ میں فوج کی ایک چوکی پر حملہ کر دیا۔
امریکی اور افغان فوج پر یہ حملہ ایک ایسے وقت ہوا جب کئی محاذوں پر شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

افغان فوجی جدید اسلحہ سے لیسافغان حکام کے مطابق اس حملے میں کئی شہری اور شدت پسند بھی ہلاک ہوئے۔
نیٹو کے مطابق طالبان نے یہ حملہ چھوٹے ہتھیاروں سے کیا جن میں مشین گنیں، راکٹ سے داغے جانے والے بم اور مارٹر شامل تھے۔ طالبان اس حملے کےدوران مسجدوں اور گھروں میں مورچہ بند تھے۔
آئسیف کے بیان کے مطابق کئی گھنٹے کی لڑائی کے بعد حملہ آوروں کو پسپا کر دیا گیا اور انہیں بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔
اس وقت افغانستان میں 53 ہزار غیر ملکی فوجی موجود ہیں جن میں سے زیادہ تر امریکی ہیں۔
نامہ نگاروں کے مطابق لڑائی ننگرہار صوبے کے قریب ہوئی جہاں ایک ہفتہ قبل امریکی فوج کے فضائی حملے میں افغان حکومت کے مطابق 47 عام شہری ہلاک ہو گئے تھے جن میں زیادہ تر عورتیں اور بچے تھے۔
لیکن امریکی فوج کا دعوی تھا کہ اس نے طالبان کو نشانہ بنایا تھا۔
ادھر ملک کے جنبوب میں ایک خود کش حملہ آور نے چوبیس افراد کو ہلاک کر دیا۔ یہ حملہ اروزگان صوبے میں کیا گیا۔
اروزگان کے پولیس سربراہ کے مطابق مرنے والوں میں چار پولیس والوں کے علاوہ سبھی عام شہری تھے۔