
یوں تو کراچی سے حیدرآباد کا سفر کچھ زیادہ طویل نہیں، دونوں شہروں میں صرف ڈیڑھ سو کلومیٹر کا فاصلہ ہے اور انہیں ملانے والی ملک کی مصروف ترین شاہراہ سپر ہائی وے پر رفتار کی زیادہ سے زیادہ حد سو کلومیٹر فی گھنٹہ کے حساب سے ایک سے دوسرے شہر تک پہنچنے میں ڈیڑھ سے دو گھنٹے سے زیادہ وقت نہیں لگنا چاہیے۔
لیکن اگر ان شہروں کے درمیان چلنے والی کسی ائرکنڈیشنڈ مسافر بس میں سفر کیا جائے تو منزل تک پہنچنے میں تین سے چار گھنٹے یا اس سے بھی زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔
مگر منگل کی شام سوا آٹھ بجے کے قریب اپنی سولہ سالہ بھانجی کے ساتھ حیدرآباد کے لیے اے سی کوچ میں سوار ہوتے ہوئے مجھے نہیں پتہ تھا کہ یہ سفر کہں زیادہ طویل اور خوفناک ہو سکتا ہے۔
بس نے کراچی صدر میں تاج کمپلیکس سے روانہ ہونے میں کوئی نصف گھنٹہ لیا۔ لالو کھیت کے قریب الکرم سکوائر پہنچنے پر بس کو مزید مسافروں کی تلاش میں پھر روکا گیا۔
کوئی آدھے گھنٹے بعد بس حرکت میں اور الآصف سکوائر پر ٹھہر گئی جو کراچی ٹول پلازہ سے پہلے اندرون ملک جانے والی بسوں کا آخری سٹاپ ہے لیکن بس وہاں ایسے رک گئی جیسے جانا ہی نہ ہو۔ آدھا پون گھنٹہ گزر جانے کے بعد مسافروں نے اپنے اپنے ظرف اور انداز کے مطابق ڈرائیور سے بس چلانے پر اصرار کرنا شروع کیا:
’استاد اب چل بھی، کب تک کھڑا رکھے گا، اب تو کچھ ہی سیٹیں خالی ہیں۔۔۔۔۔۔۔ ابے چل بے! کیا رات یہیں سُلائے گا۔۔۔۔۔۔ تم لوگوں کو تو شرم ہی نہیں آتی ہے، بہن بیٹیوں کے ساتھ خود سفر کرو تو پتہ چلے۔۔۔۔۔۔‘ غرض کہ جتنے منہ اتنی باتیں۔ اچانک آگے سے تین افراد اٹھے
۔۔۔اچانک آگے ڈرائیور کی قریبی نشستوں سے تین افراد اٹھے، ایک نے پستول نکال کر پہلے ڈرائیور کے سر پر بٹ مارا اور اسے ایک طرف کرکے خود سٹئرنگ سنبھال لیا
لیکن ڈرائیور جیسے ان تمام جملوں کا عادی تھا، ہر جملے پر وہ بس سر ہلا دیتا اور جب کوئی مسافر زیادہ ہی بولتا تو کہہ دیتا کہ ’بس دس منٹ میں چل رہے ہیں‘۔ مسافروں کی امید بندھانے کے لیے وہ بس کو مسلسل کبھی آگے لے جاتا اور کبھی ریورس کرنے لگتا۔ اس دوران مسافر آتے گئے اور نششتیں بھرتی گئیں، بالآخر سوا ڈیڑھ گھنٹے بعد کنڈیکٹر نے نعرہ مارا ’ڈبل اے استاد‘ اور گاڑی چل پڑی۔
سب نے سکون کا سانس لیا۔ میں نے اپنے بیگ سے واجد شمس الحسن کا تازہ کالم نکالا اور پڑھنا شروع کیا۔۔۔۔۔۔اچانک آگے ڈرائیور کی قریبی نشستوں سے تین افراد اٹھے، ایک نے پستول نکال کر پہلے ڈرائیور کے سر پر بٹ مارا اور اسے ایک طرف کرکے خود سٹئرنگ سنبھال لیا، بس رکی نہیں بلکہ آہستہ رفتار میں چلتی رہی، دوسرے نے کنڈکٹر کو مرغا بنایا اور گیٹ پر کھڑا ہوگیا اور تیسرے نے فلمی انداز میں پستول لوڈ کرکے مسافروں کو بلند آواز میں للکارا۔ ’کوئی اپنی جگہ سے نہ ہلے اور سر نیچے رکھے‘۔
تنے میں ان کے دو اور ساتھی پیچھے سے اٹھ کھڑے ہوئے۔ سب کے چہرے بے نقاب تھے، ان میں سے دو پینتیس چالیس کے اور باقی تینوں پچیس سے تیس سال کی عمروں کے تھے۔
یری بھانجی دہشت زدہ ہوکر رونے لگی میں نے اسے دلاسہ دیا کہ یہ لوگ کسی کو نقصان نہیں پہنچائیں گے۔ کچھ ہی دیر میں لوٹ مار کرکے چلے جائیں گے۔
میں نے اپنی گود میں پڑے دفتری بیگ کو ان کی نگاہوں سے بچتے ہوئے اگلی نشست کے نیچے دھکیل دیا کہ کہیں اس میں موجود بی بی سی کے لوگو والا مائیک اور کیمرہ انہیں مجھے نقصان پہنچانے پر مجبور نہ کرے۔ بقول ایک دوست کے ڈاکوؤں کے لیے صحافی اور پولیس والے ایک برابر ہوتے ہیں۔
ہر مسافر کی طرح پستول بردار ہماری نشست پر آیا اور میری جامہ تلاشی لی، پرس اور موبائل لیا اور پوچھا اور کچھ تو نہیں ہے، میں نے نفی میں سر ہلایا، پھر اس نے بھانجی کی طرف اشارہ کرکے پوچھا اسکے پاس کیا ہے؟
”یہ تو بچی ہے، بھانجی ہے میری۔۔۔جو کچھ تھا تمھیں دیدیا، پیسے نکال کر پرس واپس کردو تو مہربانی ہوگی اس میں ضروری کاغذات ہیں۔،، میں نے اسی بولی میں جواب دیا جو وہ بول رہا تھا۔ اس نے پرس لوٹا دیا اور آگے بڑھ گیا۔
بس نے کراچی شہر سے نکلنے ہی میں کئی گھنٹے لگا دیے
چند منٹوں بعد اسکا دوسرا ساتھی نشستوں کے نیچے جھانکتا تلاشی لیتا میری نشست پر پہنچا۔ اسے میرا بیگ نظر آگیا۔ میری طرف قہر آلود نظروں سے دیکھتے اس نے پوچھا۔۔۔۔ یہ تونے چھپایا ہے؟
’چھپایا نہیں رکھا ہے۔۔۔یہ دفتر کا بیگ ہے ضروری فائلیں ہیں اور کچھ نہیں‘۔
اس نے بیگ کی زپ کھولنا شروع ہی کی تھی کہ آگے موجود اسکے ایک ساتھی نے کہا کہ اترنے کے لیے تیار ہوجاؤ۔ اسی اثناء میں پچھلی نشستوں سے ایک ڈاکو ہاتھ میں لوٹی ہوئی رقم تھامے آیا، میری طرف دیکھا بولا: ’تمھارے ساتھ لیڈیز ہے‘۔ میں نے اثبات میں سر ہلایا، اس نے سو روپے تھماتے ہوئے کہا: ’گھر پہنچنے کے لیے کرایہ رکھ لو‘۔
پھر وہ مڑا اور میری ساتھ والی نشست پر بیٹھے بوسیدہ شلوار قمیض میں ملبوس نوجوان کی طرف دیکھا جس کی جیب سے تلاشی کے دوران سو روپے کے ایک پھٹے ہوئے نوٹ کے سوا کچھ برآمد نہیں ہوا تھا اور اسے بھی بیوی بچے کے ساتھ ہونے کی وجہ سے سو روپے کا نوٹ دیا اور کچھ دیر بعد تمام ڈاکو ویرانے میں نیچے اترے اور بس کے ساتھ چلنے والی کار میں سوار ہوکر مخالف سمت میں فرار ہوگئے۔ انہوں نے پوری کارروائی بمشکل دس منٹ میں مکمل کی اور بس دوبارہ چلنے لگی۔ ہوشیاری کا مظاہرہ کرنے والے مسافر اپنی اپنی سیٹوں کے نیچے اور اطراف سے پرس اور موبائل نکالنے لگے۔
اور پھر یک دم جیسے بس کے اندر طوفان آگیا، جو جتنا لٹا، اتنا چلارہا تھا۔ایک نوجوان نے جو بہن کی شادی کے لیے پچاس ہزار روپے لے جارہا تھا، اس نے ڈرائیور کوگالیاں دیتے ہوئے بس کو روڈ پر ترچھا رکوایا اور نیچے اترتے ہی ڈرائیور اور کنڈکٹر کو پیٹنا شروع کردیا ان کی دیکھا داکھی دوسرے مسافر بھی اس مار پیٹ میں شامل ہوگئے۔
کوئی بیس منٹ بعد پولیس آئی اور ڈرائیور اور کنڈکٹر کو بچایا۔ خواتین اور بچوں کے ساتھ سفر کرنے والے تمام مسافر پریشان کھڑے تھے۔ میں نے ایک راہگیر سے موبائل لے کر اپنے دوستوں کو کال کرنا چاہی تو یاد آیا کہ بیشتر دوستوں کے موبائل نمبر تو موبائل فون میں ہی محفوظ ہیں ذہن میں نہیں۔
پولیس نے مسافروں سے احتجاج ختم کرنے کا کہا لیکن کوئی تیار نہیں ہوا۔
آدھا گھنٹہ اور گزر گیا ایسے میں کچے سے گزرتے ہوئی ایک بس آئی، اس کے دروازے پر کھڑے کنڈکٹر نے مجھ سے پوچھا۔ حیدرآباد جانا ہے؟ میں بس اتنا کہہ سکا کہ ہاں جانا تو ہے لیکن کرایہ نہیں ہے۔ ’گھر پہنچنے کے لیے کرایہ رکھ لو‘
ایک ڈاکو ہاتھ میں لوٹی ہوئی رقم تھامے آیا، میری طرف دیکھا بولا: ’تمھارے ساتھ لیڈیز ہے‘۔ میں نے اثبات میں سر ہلایا، اس نے سو روپے تھماتے ہوئے کہا: ’گھر پہنچنے کے لیے کرایہ رکھ لو‘
اس نے ہمیں بس میں بٹھالیا۔ بس کے اندر پہنچتے ہی نئے ہم سفروں کے سوالات تھے اور میں تھا۔ کتنے ڈاکو تھے؟ سنا ہے عورتوں کے ساتھ بڑا ظلم کیا؟ بس بھائی کیا کہیں اب یہ پیپلز پارٹی کی حکومت آئی ہے نا تو ڈاکو بھی جیلوں سے چھوٹ رہے ہیں ایسا تو ہوگا۔ ارے بھائی اللہ کا شکر کرو جان بچ گئی۔ جوان بچی تھی تمھارے ساتھ۔
میں ہاں، نہیں اور جہاں ضرورت ہو مختصراً ان سوالات کا جواب دیتا رہا اور پھر برابر میں بیٹھے پان کھاتے نوجوان سے تمباکو والا پان مانگ کر کھانے لگا تاکہ منہ بند ہو اور لوگ مزید سوال نہ کریں۔
صبح تین بجے کے قریب حیدرآباد بس اسٹاپ پہنچا تو رکشہ کرایا اور ڈاکوؤں کے دیے ہوئے سو روپے سے کرایہ دیکر گھر پہنچا۔ رکشہ میں بیٹھا تو کئی طرح کے خیالات آنے لگے ۔۔۔۔لوگ جرائم پر کیوں مجبور ہوتے ہیں؟ غربت اور بیروزگاری سے دوچار جذباتی اور باغی ذہن کے نوجوان ہی ہوں گے؟ چلو مہذب تو تھے عورتوں کی تلاشی تو نہیں لی اور جاتے جاتے کرائے کے لیے کچھ پیسے تو دے گئے۔۔۔جان بچی سو لاکھوں پائے۔۔۔۔۔بندہ کچھ بھی بن جائے ڈرائیور اور کلینر نہ بنے ایک تو سواریاں جمع کرنے کے لیے اتنی بھاگ دوڑ اور پھر رہزنی ہونے پر مسافروں کی مار پیٹ۔ آخر ایسے مواقع کے لیے مسافر گاڑیوں میں کوئی سگنل سسٹم نصب کیوں نہیں کیا جاتا؟