قبرستان میں ایک صاحب ایک قبر پر پہنچے اور قبر سے لپٹ کر دھاڑیں مار مار کر رونا شروع کردیا
ساتھ ہی ساتھ وہ یہ جملہ کہتے جاتے
"تمھیں مرنے کی کیا جلدی تھی ۔۔ تمھیں مرنے کی کیا جلدی تھی ۔۔۔۔ تمھیں مرنے کی کیا جلدی تھی" انکی آہ و بکا سن کر دیگر زائرین لوگ متوجہ ہوگئے اور انکے غم میں شریک ہونے کے لیے انکے قریب پہنچے۔
وہ صاحب ابھی بھی قبر کی مٹی اٹھا کر آنکھوں سے لگاتے۔ اپنے سر میں ڈالتے۔ سر پیٹتے اور روتے چلاّتے یہی کہتے جاتے
"تمھیں مرنے کی کیا جلدی تھی ۔۔ تمھیں مرنے کی کیا جلدی تھی ۔۔۔۔ تمھیں مرنے کی کیا جلدی تھی"
لوگوں نے انہیں تسلی دیتے ہوئے کہا
" دیکھیے جناب۔ مرنے والوں کا سب کو دکھ ہوتاہے۔ لیکن یہ آخر کون ہے جس کے غم میں آپ یوں نڈھال ہوئے جارہے ہیں؟
آپکے بیٹے، والد، بہن بھائی یا ۔۔۔۔ کوئی اور۔۔؟؟؟"
ان صاحب نے ہچکیوں کے درمیاں لوگوں کو بتایا
" یہ میری بیوی کے پہلے شوہر کی قبر ہے