mahfuzur rehman
Mar 14 2006, 09:55 PM
دل کے ڈاکٹر کہتے ہیں یہ ایک انتہائی اہم پیش رفت ہے
محققین کا کہنا ہے کہ ان کے پاس شواہد ہیں کہ دل کے امراض کی ایک دوا سے نہ صرف دل کی بیماری مسئلہ کنٹرول ہوتا ہے بلکہ کچھ حد تک مرض ٹھیک ہو سکتا ہے۔
امریکہ کے شہر اٹلانٹا میں ہونے والے ’امریکن کالج آف کارڈیالوجی‘ کے اجلاس میں محققین نے بتایا ہے کہ ’روسیوواسٹیٹن‘ نامی ا یک نئی ’سٹیٹن‘ دوا پر تحقیق میں یہ دیکھا گیا ہے کہ یہ دوا دل کے شریانوں کے اندر جمع چربی کو گھلا دیتی ہے۔
شریانوں کے اندر چربی کے جمع ہو جانے سے ہی دل کے بہت سے امراض شروع ہوتے ہیں۔ اس عمل کو ’آرتھروسکلوروسِس‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ دو سال تک انہوں نے تین سو اننچاس مریضوں کو یہ نئی دوا دی اور یہ دیکھا گیا کہ ان مریضوں کے شریانوں کے اندر چربی گھٹنی شروع ہو گئی۔
مریضوں کو یہ دوا بڑی مقدار میں دی گئی یعنی کم سے کم چالیس ملی گرام روزانہ۔
اس تجربے میں مریضوں کے شریانوں میں نقصان دہ ’کالسٹرول‘ یعنی ’ایل ڈی ایل‘ میں پچاس فیصد تک کمی ہوئی جبکہ ’اچھے‘ کالسٹرول میں پندرہ فیصد تک اضافہ ریکارڈ ہوا۔
دو سال کے علاج کے بعد ان مریضوں کے شریانوں کے اندر جمع چربی میں نمایاں کمی ہوئی۔ تجربے کے ہر پانچ میں سے چار افراد کے شریانوں کی چربی میں یہ کمی دیکھی گئی۔
’روسیوواسٹیٹن‘ نامی اس دوا کو ’کریسٹور‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
برطانیہ میں دل کے امراض کے ادارے ’برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن‘ کے پروفیسر پیٹر وائسبرگ کہتے ہیں کہ یہ نئی تحقیق اس لیے بہت اہم ہے کہ اب تک یہ سمجھا جا رہا تھا کہ ’سٹیٹن‘ ادویات سے شریانوں کے اندر چربی کے جمع ہونے کا عمل کنٹرول ہوتا ہے لیکن اس تجربے سے معلوم ہوا ہے کہ یہ کنٹرول کے علاوہ چربی میں نمایاں کمی کر سکتی ہے۔
پرفیسر وائسبرگ کے مطابق یہ ایک ’بہت اہم تحقیقاتی تجربہ ہے۔‘
اس تحقیق کو اگلے ماہ (اپریل) میں طبی جریدے ’جرنل آف دی امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن‘ میں شائع کیا جائے گا۔
WITH THANKS OF BBC.COM
MAHFUZUR REHMAN
[font=Courier New][size=7][color=#3333FF]