Help - Search - Members - Calendar
Full Version: Bladder
HulChul.NET > Science, Arts & Culture > Health
mahfuzur rehman


یہ مثانہ تجربہ گاہ میں پروسس کیا گیا ہے
امریکی سائنسدانوں نے کامیابی کے ساتھ مثانے کے امراض میں مبتلا افراد میں ایسے مثانے ٹرانسپلانٹ کردیئے ہیں جنہیں تجربہ گاہ میں مریضوں کے اپنے خلیوں سے بنایا اور پروان چڑھایا گیا ہے۔
نارتھ کیرولائنا کی چیک فارسٹ یونیورسٹی میں ماہرین نے ایسے سات مریضوں میں مثانے ٹرانسپلانٹ کیئے ہیں اور ان میں سے کچھ افراد میں یہ ٹرانسپلانٹ کردہ عضو اگلے چند سالوں کے دوران بالکل صحیح کام کررہا ہے۔

یہ تحقیق امریکی جریدے دی لینسٹ میں شائع کی گئی ہے اور اسے ایک بڑی کامیابی قرار دیا جارہا ہے۔

اب ماہرین کی یہ ٹیم دیگر انسانی عضلات مثلاً دل وغیرہ کو بھی اسی طریقہ کار سے تجربہ گاہ میں پروسس کرکے ٹرانسپلانٹ کرنے پر کام کررہی ہے۔

مثانے کے امراض سے مثانے میں دباؤ بڑھ جاتا ہے جس کے نتیجے میں گردے کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

عموماً ایسے مسائل کی صورت میں ایک خاص طرح کی سرجری کی جاتی ہے تاہم اس آپریشن کے اپنے نقصانات ہیں۔

ٹیم میں شامل ڈاکٹر اینتھونی اٹالہ کا کہنا ہے کہ انسانوں میں خراب ہوجانے والے ٹشو اور دیگر عضلات کی منتقلی کی راہ میں یہ پہلا قدم ہے۔

عام طور پر جو سرجری کی جاتی ہے اس میں مریض کے اپنے معدے یا آنت سے ٹشو لیئے جاتے ہیں جنہیں خراب شدہ ٹشو کی جگہ استعمال کیا جاتا ہے تاکہ مثانے کا نظام درست کیا جاسکے۔ اس طریقہ کار سے گردہ کے نظام کی خرابی سے بچا جاسکتا ہے تاہم کینسر سمیت دیگر کئی مسائل کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔

جن مریضوں میں جدید طریقے سے ٹرانسپلانٹ کیا گیا ہے انہیں کمزور مثانے کی شکایت تھی۔ ماہرین نے ہر مریض کے مثانے سے خلیوں کے نمونے لیئے اور پھر تجربہ گاہ میں انہیں پروان چڑھایا۔ جس کے بعد انہیں خراب ٹشوز سے تبدیل کردیا گیا۔

اس ٹرانسپلانٹ کے بعد پانچ سال تک مریضوں کے نظام کو زیر تجزیہ رکھا گیا ہے۔ ان میں سے کئی مریض تو بالکل صحتمند ہوچکے ہیں اور ان کے مثانے کا نظام مکمل طور پر صحیح کام کررہا ہے۔

اب سائنسدان اسی طریقے سے انسانی عضلات کے بیس مختلف ٹشو تجربہ گاہ میں پروان چڑھا رہے ہیں تاکہ دیگر امراض کا بھی اسی طرح کامیاب علاج ممکن ہوسکے۔





WITH THANKS BBC.COM

MAHFUZUR REHMAN






sahera
breakface1.gif

breakface1.gif

i cant read such text.
mahfuzur rehman






Hamen hairat hai ke aap ko uru nahi aati yeh drust hai ke text men kuch farq hai lekin agar kise ko urdu aati hai tu yeh woh parh sakta hai diqqat zaroor hai lekin aysa bhi nahi ke aap nahi parh sakte
koshish karoonga is text se alag rah kar kuch kar sakoon comment ka shukria

MAHFUZUR REHMAN
This is a "lo-fi" version of our main content. To view the full version with more information, formatting and images, please click here.
Invision Power Board © 2001-2008 Invision Power Services, Inc.