
مولی مصباح ارم رانا اپنے والد اور بڑی بہن کے ساتھ پریس کانفرنس کے دوران
’مولی کیمبل نہیں مصباح ہوں‘
برطانیہ سے لاپتہ ہو جانے والی لڑکی مولی کیمبل نے کہا ہے کہ اسے ویسٹرن آئیلز میں اپنی
ماں کا گھر چھوڑنے کے لیئے کسی نے دباؤ نہیں ڈالا تھا۔
گزشتہ ایک ہفتے سے پاکستان میں موجود بارہ سالہ مولی نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ وہ سکاٹ لینڈ سے اپنی مرضی سے پاکستان آئی ہے۔
یاد رہے کہ مولی کی ماں نے، جنہیں اسے اپنے پاس رکھنے کا قانونی حق (کسٹڈی) حاصل ہے، گزشتہ ہفتے اپنی بیٹی کی واپسی کے لیئے ایک جذباتی اپیل کی تھی۔
مولی نے، جو مصباح ارم احمد رانا کے نام سے بھی جانی جاتی ہے، میڈیا کو بتایا کہ سکاٹ لینڈ سے لاہور کے لیئے ٹکٹ اس نے خود خریدا تھا۔
مصباح ارم نے اس بات کی تردید کی کہ اسے ماں کا گھر چھوڑنے پر مجبور کیا گیا تھا اور یہ کہ پاکستان میں اس کی شادی ہو رہی ہے۔ ’ یہ میرا ذاتی فیصلہ تھا۔ میری بہن مجھے ملنے آئیں تو میں نے ان سے پوچھا کہ کیا میں ان کے ساتھ آ سکتی ہوں کیونکہ مجھے اپنے گھر والوں سے ملنے نہیں دیا جا رہا تھا۔ یوں میں اپنی بہن کے ساتھ آگئی۔‘
جب اس سے پوچھا گیا کہ کیا وہ برطانیہ واپس جائے گی تو اس نے کہا ’ میں ہمیشہ کے لیئے یہاں پاکستان میں رہنا چاہتی ہوں اور میرا نام مولی نہیں مصباح ہے۔‘
مصباح نے مزید کہا ’ میں جانتی ہوں کہ میری والدہ میری کمی محسوس کر رہی ہیں لیکن مجھے اپنے گھر والے یاد آ رہے تھے، یہ مشکل تھی۔ اگر میں اپنے والد کے ساتھ رہتی ہوں تو میں اپنی ماں سے بھی مل سکوں گی۔‘
پاکستان میں مصباح کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ وہ مصباح کو فون اور کمپیوٹر خرید کر دیں گے تاکہ وہ اپنی والدہ سے رابطہ میں رہ سکے۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ مصباح کی ماں لوئیس بھی اپنی بیٹی سے مل سکیں گی۔ تاہم لوئیس کو یہ قانونی حق حاصل ہے کہ وہ مولی کے پاکستان جانے کو بچی کے اغوا کا مقدمہ بنا کر پاکستانی عدالت سے اس کی واپسی کے احکامات لے سکیں۔
ادھرگلاسگو میں مصباح کے سب سے بڑے بھائی اکیس سالہ عمر نے بھی ایک پریس کانفرنس کو بتایا ہے کہ ان کی بہن اپنی مرضی سے پاکستان گئی ہے کیونکہ وہ ماں اور ان کے بوائے فرینڈ کے ساتھ خوش نہیں تھی۔ وہ دونوں ہر وقت آپس میں جھگڑتے رہتے ہیں۔
عمر کا کہنا تھا کہ ان کے والد کا مصباح کی زبردستی شادی کرنے کا کوئی ارداہ نہیں کیونکہ انہیں اپنے بچوں کی خوشی عزیز ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب انہوں نے گزشتہ اگست میں اپنی پسند سے شادی کی تو ان کے والد نے کوئی اعتراض نہیں کیا تھا۔
عمر کا کہنا تھا کہ گزشتہ ایک سال سے ان کی والدہ لوئیس مصباح کو لیکر غائب ہو گئیں تھیں جس دوران انہوں نے اسے گھر کے باقی افراد سے رابطہ نہیں کرنے دیا۔
گزشتہ ہفتے مولی کے پاکستان جانے کے بعد لیبر پارٹی کے ایم پی محمد سرور جمعرات کو پاکستان پہنچے جہاں انہوں نے اس کے والد سے رابطہ کیا اور مسئلہ حل کرانے کے لیئے اپنا رسوخ استعمال کیا۔
محمد سرور کے بقول مولی نے جمعہ کے روز پاکستان سے اپنی والدہ سے بھی بات کی ہے۔ پاکستان روانگی سے قبل انہوں نے کہا تھا کہ اگر مولی پاکستان میں نہیں رہنا چاہتی تو وہ یہ بات یقینی بنائیں گے کہ اس سلسلے میں ’تمام قانونی تقاضوں‘ کا مکمل لحاظ کیا جائے۔
لاہور میں پریس کانفرنس میں ایم پی محمد سرور نے کہا کہ یہ بات ضروری ہے کہ گھرانے کے افراد ’ باہمی اعتماد بحال کریں۔‘

http://www.bbc.co.uk/urdu/regional/story/2...y_irum_sq.shtml
Full store in English:
http://news.bbc.co.uk/2/hi/uk_news/scotlan...nds/5304126.stm