http://www.dailyjinnah.com.pk/admin/anmvie...asp?a=9670&z=17
مظہر کلیم کا عمران بم دھماکوں سے مرتا ہے نہ گولی اس کا کچھ بگاڑ سکتی ہے، گاڑی کے نیچے آکے اس کی ہڈیاں ٹوٹتی ہیں نہ زہر اس پر اثر کرتا ہے ، خنجر اسے کاٹتا ہے اورنہ آگ اسے جلاتی ہے، وہ زندہ تھا ،زندہ ہے اور زندہ رہے گا اگرچہ ابھی تک اس نے خدائی کا دعویٰ نہیں کیا مگر جن "صفات" کا حامل اسے قرار دیا گیا ہے وہ خدائی صفات سے کچھ کم بھی نہیں۔وہ ہر اس جگہ پہنچ جاتا ہے جہاں کوئی نہیں پہنچ سکتا ۔ وہ ہر اس سازش کو ناکام بنا دیتا ہے جسے کوئی ناکام نہیں بنا سکتا۔وہ ہر اس مجرم کو پکڑ لیتا ہے جسے لاکھوں فوجی نہیں پکڑ سکتے۔کبھی وہ کسی غدار سائنسدان کو رنگے ہاتھوں پکڑتا ہے اور کبھی کوئی باغی وزیراعظم اس کا نشانہ بنتا ہے۔اندرون ملک کوئی مشن ہو یا بیرون ملک کامیابی اس طرح اس کے پاؤں چومتی ہے جیسے اس کاوفادار "ڈوگی" وہ عجیب کمانڈو ہے۔اسے پھانسی دی جاتی ہے لیکن کنویں سے کسی اور کی لاش نکلتی ہے۔گولیوں سے اس کا سینہ چھلتی ہوجائے تو بھی وہ موت کو ہرا دیتا ہے۔بم دھماکوں میں کبھی اس کی کار کے ٹکڑے ہوجاتے ہیں اور کبھی وہ جھولا جھول جاتی ہے مگر گوشت پوست کا بنا عمران پھر بھی زندہ رہتا ہے۔غرض ایک ہی مشن میں موت سینکڑوں دفعہ اسے اور وہ موت کو چھو کے گزر جاتا ہے۔موت کے ساتھ وہ یوں اٹھکیلیاں کرتا ہے جیسے جعلی پیر مریدوں سے ۔مظہر کلیم کے عمران میں اور بھی بہت سے خوبیاں ہیں۔وہ کئی روپ اختیار کرسکتا ہے ۔عام انسانوں کيلئے ممکن نہیں ہوتا کہ اسے بدلے روپ میں پہچان سکیں۔وہ فقیر بنتا ہے تو ایسا کہ فقیروں کو بھی اس پر ترس آجاتا ہے ، شام کو دھندے سے واپسی پر وہ بھی اس کی ہتھیلی پر روپیہ دو روپے رکھ دیتے ہیں۔وہ ڈانسر بنتا ہے تو ستون بھی اس کے ساتھ ڈانس کرنے لگتے ہیں اس کی شکل اگرچہ اتنی اچھی نہیں مگر اس کی میٹھی آواز میں جادو ہے۔وہ گاتا ہے تو مینڈک بھی وجد میں آجاتے ہیں۔پینے پلانے کا دور چلے تو وہ بوتلیں نہیں ڈرم خالی کردیتا ہے۔ پینا پلانا ، ہنسنا ہنسانا، جھومنا جھمانا اس کا محبوب مشغلہ ہے۔
تاہم تصویر کا دوسرا رخ بھی ہے۔وہ پیر بھی بنتا ہے۔لوگ اسے جھک جھک کر سلام کرتے ہیں۔سید بادشاہ کہتے ہوئے لوگ اسکے گھٹنوں، ٹخنوں اور پاؤں کو ہاتھ لگاتے ہیں۔بڑے بڑے سردار اور گدی نشین اس کے آستانے پر حاضری دیتے ہیں۔وہ اپنی اس حیثیت کو خوب انجوائے کرتا ہے۔وہ لوگوں کو بے وقوف بنانے پر ہنستا ہے اور پھر جب اس کا مشن پورا ہوجاتا ہے تو وہ یوں غائب ہوجاتا ہے جیسے اسلامی جمہوریہ پاکستان سے جمہوریت، میرٹ اور انصاف۔
عمران میرا پسندیدہ کردار ہے۔وہ ایک نڈر، بے باک، بہادر اور جرأت مند نوجوان ہے۔وہ 35سال قبل بھی جوان تھا اور آج بھی گھوڑے کی طرح بھاگتا ہے۔میں نے عمران کی بے شمار کہانیاں پڑھیں ہم میں سے عمران کے چاہنے والے الگ الگ کہانی خریدتے تھے اور پھر باری باری تمام کہانیاں پڑھ لیتے تھے۔آخر میں سب کتابیں ردی والے کو بیچ کر سموسے اور پکوڑے کھاتے تھے۔ردی والا ہم سے یہ کتابیں فوراً خرید لیتا تھا اس لئے کہ وہ پھر آدھی قیمت پر بک جاتی تھیں۔عمران سیریز کے تمام کردار اپنی اپنی جگہ ایک عجوبہ ہیں۔تنویر، صفدر، جولیا، جوزف، سر رحمن، صدیقی اور X-2 پر مشتمل یہ ٹیم خاکی نہیں بلکہ ناری مخلوق لگتی ہے۔ہاں ایک بات قابل اعتراض ہے ٹیم میں اتنے سارے مرد اور صرف ایک عورت یقیناً بڑا ظلم ہے۔حقوق نسواں کی تنظیموں کو یہ زیادتی کیش کروانی چاہیے۔اب آتے ہیں ہمایوں گوہر کی کتاب کی طرف جس کے "مصنف" حاضر سروس چیف آف آرمی سٹاف اور (اسلامی جمہوریہ ؟؟) پاکستان کے صدر جناب پرویز مشرف ہیں۔جنرل مشرف کی یہ کتاب فنی اعتبار سے مظہر کلیم کی عمران سیریز سے اچھی ہے۔مظہر کلیم کا ہیرو عمران بہت کچھ سہی مگر ہے تو فرضی نا جبکہ ہمایوں گوہر سوری جنرل صاحب کی کتاب کا ہیرو ایک حقیقی اور باوردی انسان ہے۔جنرل صاحب کی ٹیم میں بھی اگرچہ مردوں کا غلبہ ہے تاہم خواتین کی تعداد بھی حسابی لحاظ سے معقول ہے۔جاسوسی ناول دھڑا دھڑ فروخت ہوتے ہیں مگر جنرل صاحب کی کتاب تو دھڑ دھڑا دھڑ فروخت ہورہی ہے۔ہاں البتہ اس کی قیمت کچھ زیادہ ہے۔اگر آپ بڑے ہوگئے ہیں اور اس وقت عمران سیریز ٹائپ کی کتابیں پڑھنے سے شرماتے ہیں تو اب آپ کو پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں اگر آپ کو انگریزی نہیںآتی تو اخبارات میں پڑھیے ۔انکشافات اور سسپنس سے بھرپور اقتباسات ورنہ چند دن انتظار کیجئے اردو ترجمے کے ساتھ آرہی ہے آپ کے پاس وہ کتاب جسے پڑھ کر آپ کے آنسو بے اختیار بہنے لگیں گے۔اس کتاب کے پڑھنے سے آپ کو دل کا دورہ پڑے تو خوش ہو کر موت کوگلے لگائیں کہ اب تو جینے سے موت ہی اچھی کیونکہ اگر آپ زندہ رہے تو ساری دنیا آپ کو بزدل، مطلبی اور پیسے کے پتر ہونے کے طعنے دے گی۔کاش ہمیں سسپنس سے بھرپور ناول لکھنے اور پڑھنے کا شوق نہ چڑھا ہوتاتو آج ہم یوں رسوا نہ ہوتے۔مگر کیا ہے۔ بدنام ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا!!