http://www.dailyjinnah.com.pk/admin/anmvie...asp?a=9671&z=17
بات پاکستان کی سب سے زیادہ بااختیار شخصیت کی کتاب کی ہورہی ہے ۔ وہ کتاب جو دنیا میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی بارہ کتابوں کی فہرست میں شامل ہوگئی ہے اور عنقریب اس فہرست میں پہلی پوزیشن پر آنے والی ہے ۔ چھوٹامنہ بڑی بات والا معاملہ ہے لیکن بقائمی ہوش وحواس یہ دعویٰ کرنے جارہا ہوں کہ "In the line of fire" نامی کتاب صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان جنرل پرویزمشرف کی تحریر کردہ کتاب نہیں۔ یہ کتاب خواہ مخواہ ان سے منسوب کی گئی ہے اور پتہ نہیں وہ کیوں اسے اپنی کتاب قرار دے رہے ہیں لیکن میراصرار ہے کہ یہ ہر گز ہر گز ان کی کتاب نہیں۔ یہ ان کے اس قریبی دوست کی تحریر ہوسکتی ہے جس نے ان کے لئے مسلم لیگ (ق) تخلیق کی۔ یہ ان کی قربت کے مستحق کسی صحافی کا کارنامہ ہوسکتا ہے ۔ ہوسکتا ہے اسے ان کے کسی سٹاف ممبر نے ان کو دکھائے بغیر ان کے نام کے ساتھ شائع کروایا ہو ۔ اس بات کا بھی امکان ہوسکتا ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی "را" کے ساتھ مک مکا کرکے سائمن اینڈ شسٹر(Simon and Schuster) نے ، پاکستان کو بدنام کرنے کے لئے اس میں غیرمعمولی تبدیلیاں کی ہوں۔ غرض کچھ بھی ہوسکتا ہے لیکن یہ صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان جنرل پرویز مشرف کی تحریر نہیں ہوسکتی ۔
جنرل پرویز مشرف اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر ہیں۔ وہ سات سال تک اس ملک کے بلاشرکت غیرے حکمران رہے ۔ وہ اس ملک کی اقدار اورعوام کے مزاج سے بخوبی آگاہ ہیں۔ وہ کتاب خود لکھتے تو کیا اس میںاپنے معاشقوں کے قصے بیان کرتے؟۔ کیا اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر اپنے ماں باپ کے ڈانس کا تذکرہ فخر سے کرسکتے ہیں ؟۔لیکن اس کتاب کے صفحہ 20 پر، مصنف جو کوئی بھی ہے ، لکھتا ہے کہ
As a working woman" my mother joined the Pakistani embassy as a typist. She was very good typist and won an embassy competition for speed. Perhaps that is why she is also a good harmonium player. She had a good voice too. Both my parents loved music and dancing" espesially ball room dancing. My father was a very elegant" very graceful dancer. During the coronation of the queen of England" there was a dance competition in which many of our embassy people participated. After a process of elimintaion" my parents won the first prize in ballroom dancing.
جس جنرل پرویز مشرف کو ہم جانتے ہیں وہ نہایت بہادر اور نڈر انسان دکھائی دیتے ہیں۔ کئی مرتبہ انہوں نے موت کو قریب سے دیکھا ہے ۔ وہ دشمن کی آنکھوںمیں آنکھیں ڈال کر بات کرسکتے ہیں ۔ وہ بتکرار کہتے رہے ہیں کہ نائن الیون کے بعد امریکہ کا ساتھ دینے کا فیصلہ انہوں نے کسی خوف کے بغیر محض اور محض قومی مفاد کی خاطر کیا تھا لیکن اس کتاب میں تو یہ تحریر ہے کہ یہ سب کچھ رچرڈ آرمیٹاج کی دھمکی سے مرعوب ہوکر کیا گیا ۔ یہ کتاب اس بہادر جنرل مشرف کی کتاب نہیں ہے ورنہ اس کے صفحہ 201 میں یہ پیراگراف کیسے تحریر ہوتا کہ :When i was back in Islamabad the next day" our director general of Inter Services Intelligence" who happend to be in Washington" told me on the phone about his meeting with the US deputy secretary of state" Richard Armitage. In what has to be the most undiplomatic statement ever made" Armitage added to what Colin Powel had said to me and told the director general not only that we had to decide whether we were with America or with the terrorists" when we should be prepared to be bombed back to the Stone Age. This was shokingly barefaced threat" but it was obvious that the United States had decided to hit back" and hit back hard.
ہر گز نہیں، یہ کسی صورت جنرل پرویز مشرف کی تحریر کردہ کتاب نہیں ہوسکتی ۔ جنرل پرویز مشرف صدر پاکستان ہونے کے ساتھ ساتھ محافظین پاکستان کے سربراہ بھی ہیں۔ وہ تسلسل کے ساتھ کہتے رہتے ہیں کہ ان کی زندگی کا مشن پاکستان کے وقار کو بڑھانا ہے ۔ پاکستان کے امیج کو بہتر بنانے کے لئے وہ ہمہ وقت مغربی ممالک کے طویل دوروںپر رہتے ہیں ، جہاں وہ تقاریر ، انٹرویوز اور پریس کانفرنسوں کے ذریعے پاکستانیوں کو ایک باوقار اور باعزت قوم ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں لیکن مذکورہ کتاب میں تو پاکستانی قوم کو ایک بھکاری اور اس کی حکومت کو کرائے کے سپاہی کی روپ میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ کتاب کے صفحہ 237 پر "Manhunt" کے نام سے ایک باب کا آغاز اس پیراگراف سے ہوتا ہے کہ :
Since shortly after 9/11" when many members of al Qaeda fled Afghanistan and crossed the border into Pakistan" we had played cat and mouse with them. The biggest of them all" Osama bin Laden" is still at large at the time of this writting" but we have caught many"many others. Some are known to the world" some are not. We have captured 689 and handed over 369 to the United States.We have earned bounties totaling millions of dollars. Those who habitually accuse us of "not doing enough" in the war on terror should simply ask the CIA how much prize money it has paid to the government of Pakistan. Here i will tell the stories of just a few of the most significant manhunt.
اب آپ ہی بتائیے کوئی بھی صدر پاکستان اس طرح کا پیراگراف لکھ کر دنیا کے سامنے پیش کرسکتا ہے؟ ۔ میں اگر کہتا ہوں کہ یہ جنرل پرویز مشرف کی تحریر نہیں تو خواہ مخواہ نہیں کہتا ۔ میرے پاس اس دعوے کے متعدد دلائل موجود ہیں ۔ مذکورہ پیراگراف کتاب کو پرکشش بنانے کے لئے اس کے بیک ٹائٹل پر بھی اقتباس کی صورت میں چھاپ دیا گیا ہے ۔ گویا مصنف نے اس پیراگراف کو خوب غور سے لکھا اور پڑھا ہوگا کیونکہ یہ پیراگراف کتاب کا سب سے اہم پیراگراف ہے ۔ اس میں واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ سی آئی اے نے اس خدمت کے عوض حکومت پاکستان کو ادائیگیاں کرلی ہیں لیکن سی این این کے ساتھ انٹرویو کے دوران جب جنرل پرویز مشرف سے اس حوالے سے استفسار کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ انہوں نے یہ نہیں لکھا کہ سی آئی اے کی طرف سے ادائیگی حکومت پاکستان کو ہوئی ہے ۔جب انٹرویو رز نے ان کے سامنے کتاب کا یہ حصہ پڑھ کر سنایا تو صدر صاحب کہنے لگے۔ "اچھا میں نے وہاں حکومت پاکستان لکھا ہے ۔ یہ پھر غلطی ہوگئی ہے ۔ اسے ٹھیک کرلیا جائے گا"۔اب اگر یہ کتاب ان کی اپنی لکھی ہوئی ہوتی تو کیا انہیں علم نہ ہوتا کہ اس میں کیا لکھا ہے ؟۔ کیا وہ اپنی کتاب کے سب سے زیادہ انکشاف انگیز مندرجات جو قارئین کی کشش کے لئے کتاب کے بیک ٹائٹل پر بھی چھاپے گئے ہیں،سے آگاہ نہ ہوتے ؟۔ پھر کیا انہیں یہ علم نہ ہوتا کہ وہاں افراد کا ذکر ہے یا پھر حکومت پاکستان؟۔ (جاری ہے)